مستقبل میں اداکار بلال عباس خان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں، حیا خان

ہفتہ 23 مئی 2026 23:20

مستقبل میں اداکار بلال عباس خان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں، ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 مئی2026ء) پاکستانی اداکارہ حیا خان نے کہا ہے کہ اپنے ایک انٹرویو میں ادا کارہ نے کہا ہے کہ انڈسٹری میں نوجوان فنکاروں کو واضح اور پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرنے کے بجائے اکثر غیر سنجیدہ بہانے بنا دیے جاتے ہیں۔انہوں نے انڈسٹری میں شفافیت کے فقدان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کو کاسٹنگ سے متعلق فیصلوں پر صاف اور واضح جواب دینے کے بجائے اکثر ’لنگڑے بہانے‘ بنا دیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ، ’ہماری انڈسٹری میں سیدھا جواب دینے کے بجائے بہت لیم ایکسکیوزز دیے جاتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ نئے آنے والے فنکار اس رویے کی وجہ سے الجھن کا شکار رہتے ہیں کیونکہ انہیں مسترد کیے جانے کی اصل وجوہات پیشہ ورانہ انداز میں نہیں بتائی جاتیں۔

(جاری ہے)

اداکارہ نے شوبز انڈسٹری میں پیشہ ورانہ حدود قائم رکھنے سے متعلق بھی گفتگو کی اور بتایا کہ وہ اکثر اہم ملاقاتوں میں اپنی والدہ کو ساتھ لے کر جاتی ہیں تاکہ خود کو زیادہ محفوظ اور پٴْرسکون محسوس کر سکیں۔

انہوں نے کہا، ’میں اکثر میٹنگز میں اپنی ماما کو ساتھ لے کر جاتی ہوں تاکہ میں کمفرٹیبل فیل کروں۔‘حیا خان نے بتایا کہ کسی قریبی فرد کی موجودگی نہ صرف انہیں غیر آرام دہ صورتحال سے بچاتی ہے بلکہ نئے ماحول میں پیشہ ورانہ توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔اپنے ابتدائی کیریئر کے ایک ناخوشگوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک پراجیکٹ چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں موجود ہدایتکار سیٹ پر انتہائی سخت اور غیر مناسب رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔

ان کے بقول یہ تجربہ ذہنی طور پر تکلیف دہ تھا، تاہم اسی واقعے نے انہیں اپنے لیے آواز اٹھانے کی اہمیت بھی سکھائی۔اداکارہ نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر بھی بات کی اور کہا کہ اب فنکاروں کے لیے ایک’پرفیکٹ آن لائن امیج‘ برقرار رکھنا ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔انہوں نے کہاآپ کو وہ پریشر محسوس ہوتا ہے کیونکہ پھر یہ ایک ریس بن جاتی ہے، اور اگر آپ پیچھے رہ جائیں تو واقعی پیچھے رہ جاتے ہیں۔

آپ کو مسلسل اس کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔حیا خان نے مزید بتایا کہ اب تہواروں کے مواقع پر بھی سوشل میڈیا پر مسلسل تصاویر اور مواد شیئر کرنے کا دباؤ رہتا ہے۔انہوں نے کہا ’میں کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں جو ٹِپیکل نہ ہو۔ میں روایتی ساس بہو اور گھر کے رشتوں والی کہانیاں نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اب ہر کوئی کچھ نیا دیکھنا چاہتا ہے۔اداکارہ کے مطابق وہ جذباتی طور پر پیچیدہ کرداروں کی تیاری کے لیے اکثر ڈیئر زندگی جیسی فلموں سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔

حیا خان نے اپنے ڈرامہ کفیل کو اپنے کیریئر کا اہم موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ نے انہیں بطور اداکار نئی شناخت دی۔انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اس ڈرامے کی پیشکش ہوئی اور انہوں نے اس کا اسکرپٹ پڑھا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ ایک منفرد کہانی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔حیا خان نے کہا کہ وہ اس وقت ایک نئے ڈرامے پر کام کر رہی ہیں، جس میں ان کا کردار ان کے سابقہ کام سے بالکل مختلف اور نہایت دلچسپ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے لیے وہ روزانہ 12 سے 16 گھنٹے تک شوٹنگ کر رہی ہیں اور بطور اداکار خود کو مزید بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دے رہی ہیں۔خواتین کی حفاظت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حیا خان نے ایک افسوسناک واقعہ بھی بیان کیا، جب آؤٹ ڈور شوٹنگ کے دوران کچھ اجنبی افراد نے ان کی اجازت کے بغیر ویڈیوز بنائیں۔ان کے مطابق اس واقعے نے انہیں احساس دلایا کہ عوامی مقامات پر خواتین، خصوصاً شوبز سے وابستہ خواتین، اکثر خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

اداکاری کے علاوہ حیا خان نے بتایا کہ وہ فارغ اوقات میں مصوری اور پیڈل کھیلنے جیسے مشاغل میں وقت گزارتی ہیں۔انہوں نے مستقبل میں معیاری اور بامقصد پراجیکٹس میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بائیوپک میں اداکاری کرنا بھی چاہتی ہیں۔حیا خان نے یہ بھی بتایا کہ وہ مستقبل میں اداکار بلال عباس خان کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔