خیبرپختونخوا میں فوجداری کیسز میں تحقیقات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پہلی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کرنیکا فیصلہ

پیر 1 جون 2026 17:02

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جون2026ء) خیبرپختونخوا میں فوجداری کیسز میں تحقیقات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پشاور میں پہلی فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی جارہی ہے جس پر 20ارب روپے کی لاگت آئے گی جبکہ آرٹیفیشل انٹی لیجنس کمپیوٹر لیب کی تعمیر بھی سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے ۔فرانزک لیبارٹری ڈی این اے تجزیہ، فنگر پرنٹس اور ڈیجیٹل فرانزک کے ذریعے مقدمات کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوگی اور اس کے ذریعے مشکل ترین قتل کیسز، دہشت گردی، زیادتی،ڈکیتی ودیگرنوعیت کے جرائم کی وارداتوں کوسائنسی خطو ط پرحل کیاجاسکے گا۔

اس ضمن میں رپورٹ پشاورہائیکورٹ میں جمع کردی گئی ہے ۔چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی قیادت میں دورکنی بنچ نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے سے متعلق توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

(جاری ہے)

اس دوران عدالت کوبتایاگیاکہ حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلوں، ہدایات اور گائیڈلائنز سے متعلق ضمنی رپورٹ جمع کی گئی ہے جس کے مطابق 9مارچ 2026کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فرانزک سائنس لیبارٹری پشاور کا قیام ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔

رپورٹ میں کہاگیاہے کہ نیسپاک نے اس ضمن میں پی سی ون بھی تیار کرکے جمع کیاہے اور اس کی لاگت 20ارب بتائی گئی ہے ۔اسی طرح ایف ایس کے نام سے آرٹیفیشل انٹی لیجنس (اے آئی) کمپیوٹر لیب اور مختلف امور سے متعلق ڈیٹا محفوظ بنانے کا منصوبہ بھی اے ڈی پی میں شامل کیا گیا ہے اور اس منصوبے کو ایس ٹی اینڈ آئی ٹی سیکٹرکے تحت مکمل کیاجائے گا۔