غزہ سے یمن تک، ترکیہ علاقائی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے ، اردوان

بدھ 3 جون 2026 22:59

انقرہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 جون2026ء) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ خطے میں جاری تنازعات کے ذریعے جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کی کوششوں کے خلاف فعال کردار ادا کر رہا ہے اور ساتھ ہی اپنی دفاعی صنعت کو تیزی سے ترقی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ موجودہ عالمی و علاقائی تبدیلیوں کے دور میں استحکام کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے ، اجلاس سے خطاب دارالحکومت انقرہ میں کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ غزہ، لبنان، سوڈان اور یمن میں جاری حالات کو ’خون اور آنسوؤں‘ کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم ترکیہ ان ’منصوبوں‘ کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہے اور گزشتہ 23 برسوں میں حاصل کی گئی پیش رفت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ترکیہ دفاعی صنعت کے شعبے میں ’تاریخ رقم کر رہا ہے‘ اور خطے و دنیا میں بڑی تبدیلیوں کے موجودہ دور میں اپنے طویل المدتی اہداف پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔صدر اردوان کے مطابق ’ترکیہ خطے میں کشیدگی کے باوجود استحکام کا ایک جزیرہ ہے، اور حکومت و اتحاد کے طور پر ہم اس تاریخی ذمہ داری سے آگاہ ہیں جو ایک تاریخی تبدیلی کے دور میں ہم پر عائد ہوتی ہے۔

ہمارے پاس جھگڑوں اور لفظی تنازعات کے لیے وقت نہیں۔‘استنبول کی فتح کی 573ویں سالگرہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عثمانی سلطان محمد ثانی، المعروف فاتح سلطان محمد کی اس تاریخی فتح کو قوم نے گزشتہ ہفتے ہزاروں شہریوں کی موجودگی میں جوش و خروش سے منایا۔انہوں نے کہا کہ استنبول، بعض ’بازنطینی باقیات‘ کی مخالفت کے باوجود، ہمیشہ ترکیہ اور اسلام کا مرکز رہے گا۔

صدر اردوان نے مزید کہا کہ آیا صوفیہ صدیوں سے فتح کی علامت کے طور پر پہچانی جاتی ہے، تاہم اسے طویل عرصے تک ’اداسی کی حالت‘ میں رکھا گیا۔ان کا کہنا تھا 86 سال بعد ترکیہ نے آیا صوفیہ سے ’پابندیاں توڑ دیں‘ اور اسے دوبارہ اپنی تہذیبی حیثیت میں بحال کیا، جہاں اب اس کے گنبد سے قرآن کی تلاوت اور میناروں سے اذان کی آواز بلند ہوتی ہے۔انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ آئندہ بھی ایک قوم بن کر متحد رہے گا، مضبوط ہوگا اور ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔

متعلقہ عنوان :