جیکب آباد میں 50 ڈگری سے زائد گرمی، بدترین لوڈشیڈنگ اور کاروباری بحران، شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار

جیکب آباد جیسے گرم ترین شہر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، شہری

جمعرات 11 جون 2026 19:45

جیکب آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جون2026ء) جیکب آباد میں 50 ڈگری سے زائد گرمی، بدترین لوڈشیڈنگ اور کاروباری بحران، شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکارہوگئے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں قیامت خیز گرمی، بدترین اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کاروباری سرگرمیوں کی سست روی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے، شہر میں گرمی کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرجاتا ہے ایسے میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں بجلی کی عدم دستیابی نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں، گھروں، دکانوں، ورکشاپس اور تجارتی مراکز میں بجلی نہ ہونے کے باعث نہ صرف کاروبار متاثر ہورہے ہیں بلکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد بھی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں، کاروبار میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے شہریوں کو معاشی پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے، سماجی حلقوں کے مطابق مسلسل شدید گرمی، لوڈشیڈنگ اور معاشی دباؤ کے باعث لوگوں میں ذہنی تناؤ، بے چینی، چڑچڑاپن اور نفسیاتی مسائل بڑھتے جارہے ہیں، شہر کے مختلف علاقوں میں معمولی باتوں پر جھگڑے اور تلخ کلامی روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں، عوامی مقامات، بازاروں اور محلوں میں تنازعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے جبکہ گھروں کے اندر بھی شدید گرمی اور بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ماحول کشیدہ رہنے لگا ہے اور اہل خانہ کے درمیان معمولی باتوں پر اختلافات اور جھگڑوں کی شکایات بڑھ رہی ہیں، شہریوں نے بتایا کہ گرمی کی شدت کے دوران پنکھے، کولر اور دیگر برقی آلات بند ہونے سے بزرگ، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، رات کے اوقات میں بھی بجلی کی طویل بندش کے باعث لوگوں کی نیند متاثر ہو رہی ہے جس سے ذہنی دباؤ اور جسمانی تھکاوٹ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، شہریوں حکومت، ضلعی انتظامیہ اور سیپکو حکام سے مطالبہ کیا کہ جیکب آباد جیسے گرم ترین شہر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے، ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ لائی گئی تو عوامی بے چینی، نفسیاتی مسائل اور سماجی تنازعات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔