Live Updates

آگے دوڑ پیچھے چھوڑ کی پالیسی کو دفن کرنا ہوگا ، اڑان پاکستان منصوبے پر کتنا عملدرآمد ہوا‘ پیاف

پالیسی سازوں کے اعلانات اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد ہے معیشت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے بانی میاں شفقت علی، چیئرمین سید محمود غزنوی،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن ،چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان

بدھ 17 جون 2026 14:13

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جون2026ء) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے بانی میاں شفقت علی، چیئرمین سید محمود غزنوی،سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی ،وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال میں محصولات کا انتہائی بلند ہدف مقرر کیا ہے جس کی وجہ سے انفورسمنٹ کا دبائو بڑھنے کا خدشہ ہے ،وفاقی بجٹ میں اضافی محصولات کے حصول کے لیے کسی بڑی ٹیکس اصلاحات کی تجویز پیش نہیں کی گئی، پالیسی سازوں کے اعلانات اور ان کے عملی اقدامات کے درمیان پایا جانے والا تضاد ہے معیشت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔

اپنے مشترکہ بیان میں پیاف کے رہنمائوںنے کہا کہ حالیہ برسوں میں حکومت نے معیشت کو ڈیجیٹل بنانے، قابل تجدید توانائی کو وسعت دینے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لیے بلند بانگ منصوبوں کا اعلان کیا لیکن اس کے برعکس سرکاری اقدامات نے ہی ان اہداف کو کمزور کیا اور ایک ایسی پالیسی سازی کی فضا ء پیدا کردی جو تضادات کا شکار ہے ۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ آگے دوڑ پیچھے چھوڑ کی پالیسی کو دفن کرنا ہوگا ، سوال ہے اڑان پاکستان منصوبے پر کتنا عملدرآمد کیا گیا ، اس کے تحت کیا کامیابیاںحاصل کی گئیں آگاہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مسائل صرف پالیسی سازی کے ڈیزائن تک محدود نہیں بلکہ مختلف اداروں کے الگ تھلگ اندازِ فکر میں بھی پوشیدہ ہے جس میں رابطوں کا فقدان اور ایک دوسرے پر برتری کی کوشش ہے ،حکومت کے مختلف شعبے وسیع تر قومی اہداف کی پرواہ کیے بغیر اپنے فوری مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں جس کے نتیجے میں مربوط سوچ کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات