نیٹو کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد جوہری اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے روسی بمبار طیاروں کی قطب شمالی پر پروازیں

منگل 23 جون 2026 10:52

ماسکو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 جون2026ء) نیٹو کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد جوہری اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے روسی بمبار طیاروں نے قطب شمالی پر پروازیں شروع کر دی ہیں۔ تاس کے مطابق روسی وزارت دفاع نے منگل کو کہا کہ روس کے Tu-160 جوہری اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کے حامل سٹریٹجک بمبار طیاروں نے بارینٹ اور ناروے کے سمندروں کی بین الاقوامی سمندری حدود میں پروازیں کی ہیں ۔

روس کے MiG-31 لڑاکا طیارے بھی ان بمبار طیاروں کے ہمراہ تھے ۔ اس دوران ہوا میں ایندھن بھرنے کی مشقیں کی گئیں جسے روسی وزارت دفاع نے ناروے، آئس لینڈ اور گرین لینڈ کے درمیان قطب شمالی کے علاقے میں معمول کا گشت قراردیا۔ وزارت سے جاری بیان کے مطابق روسی بمبار طیاروں کو ان کے 16 گھنٹے کے مشن کے کچھ حصوں کے دوران دیگر ممالک کے لڑاکا طیاروں کا سامنا بھی رہا۔

(جاری ہے)

روسی وزارت دفاع کی طرف سے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی ایرو سپیس فورسز کی تمام پروازیں فضائی حدود کے استعمال کو کنٹرول کرنے والے بین الاقوامی قوانین کے مطابق چلائی جاتی ہیں ۔گزشتہ ماہ روس اور اس کے قریبی اتحادی بیلاروس نے اپنی پہلی مشترکہ ایٹمی مشقیں کی تھیں ۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ جوہری دفاع کی ان مشترکہ مشقوں کا مقصدنے بڑھتے ہوئے عالمی تناؤ کے ساتھ ساتھ نئے خطرات اور خطرات کے ظہور کے وقت دونوں ممالک کی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔

روسی حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے لیے نیٹو کی فوجی حمایت اور یورپ کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی ایک وسیع تنازعے کا باعث بن سکتی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں لکھاہے کہ نیٹو اور روس کے درمیان براہ راست تصادم ایک دوسرے پر جوہری حملوں کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس کے نتائج تباہ کن ہوں گے ۔انہوں نے فرانس کی جانب سے جرمنی اور نیٹو کے دیگر ارکان تک اپنے جوہری ڈیٹرن کو توسیع دینے کی تجویز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔