وندے ماترم کو لازمی قرار دینا مذہبی آزادی کے منافی ہے، اسد الدین اویسی

ہفتہ 1 اگست 2026 16:33

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا مذہبی آزادی کے منافی ہے، اسد الدین اویسی
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اگست2026ء) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ( اے آئی ایم آئی ایم ) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ سے ” قومی وقار کی توہین کے روک تھام (ترمیمی بل) 2026کی منظور ی کے بعد قومی گیت وندے ماترم کو لازمی قرار دینے کی سخت مخالف کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستور میں دی گئی مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسد الدین اویسی نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اپنے مذہب کے خلاف ہرگز کوئی عمل انجام نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں اور صرف اللہ کی عبادت کرتاہوں اور اگر میں کسی اور کی عبادت کروں تو یہ میرے مذہب کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے قومی ترانہ ”جن گن من“ او”قومی گیت”وندے ماترم“ کے درمیان موجود واضح فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ قومی ترانہ ملک اور اسکے عوام کے احترام کا اظہار ہوتا ہے جبکہ وندے ماترم میں ایک دیوی کی عقیدت کے عناصر شامل ہیں، دونوں کی نوعیت مختلف ہیں اور انہیں ایک جیسا نہیں سمجھا جاسکتا۔

(جاری ہے)

اسد الدین اویسی نے وندے ماترم کے قومی گیت ہونے کی حیثیت پر بھی سوال اٹھا یا۔ انہوں نے دعوی ٰ کیا کہ سابق صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے 1950میں اسے قومی گیت تسلیم کر کے غلطی کی تھی کیونکہ پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں کبھی کوئی باضابطہ قرار دادا منظور نہیں کی اور نہ ہی دستور میں قومی گیت کی کوئی صریح تعریف موجود ہے۔