جرمن حکومت کا انرجی سکیورٹی کے لیے ہنگامی گیس ذخائر کا پلان

DW ڈی ڈبلیو منگل 7 جولائی 2026 17:40

جرمن حکومت کا انرجی سکیورٹی کے لیے ہنگامی گیس ذخائر کا پلان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 جولائی 2026ء) وفاقی دارالحکومت برلن سے منگل سات جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمن وزارت اقتصادیات نے کہا کہ وہ ملک میں ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے گیس کے نئے محفوظ ذخائر جمع کرنے کے جس منصوبے کو حتمی شکل دی رہی ہے، وہ ماضی میں پیش آنے والے حالات کے تناظر میں اسٹریٹیجک نوعیت کا ایک فیصلہ ہے۔

یوکرین نے روسی توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں اضافہ کر دیا

نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ ان نئے ایمرجنسی گیس ریزروز کا مجموعی حجم تقریباﹰ 24 ٹیرا واٹ گھنٹے (TWh) ہو گا، جو جرمنی میں گیس کی اسٹوریج کی مجموعی صلاحیت کے تقریباﹰ 10 فیصد کے برابر بنتا ہے۔

وزارت اقتصادیات کے مطابق ان گیس ریزروز کے لیے مالی وسائل ملک میں گیس کے صارفین پر لگائی گئی ایک ڈیوٹی کے ذریعے جمع کیے جائیں گے۔

(جاری ہے)

جرمنی کو ایک نئے کاروباری ماڈل کی ضرورت کیوں؟

ممکنہ استعمال کن حالات میں؟

جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق گیس کے ان اسٹریٹیجک ذخائر کو مستقبل میں صرف ایسے ہنگامی حالات میں استعمال میں لایا جائے گا کہ جیسے اگر توانائی کے انتہائی اہم بنیادی ڈھانچے پر کوئی حملہ ہو جائے اور اس کے باعث سپلائی معطل ہو جائے، یا پھر عالمی سطح پر گیس کی شدید قلت پیدا ہو جائے۔

یورپی یونین: بچت ہدف سے زیادہ، گیس کا استعمال انیس فیصد کم

ان ذخائر کے لیے گیس دو سے تین سال تک کے عرصے میں مختلف ادوار میں خریدی جائے گی، تاکہ بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے مالیاتی اثرات سے زیادہ سے زیادہ حد تک بچا جا سکے۔

اس سلسلے میں گیس کی خریداری کے لیے اولین آرڈر رواں سال موسم سرما میں دیے جائیں گے اور گیس ریزروز کو بھرنے کا عمل 2027ء کے موسم گرما میں شروع کر دیا جائے گا۔

ولادیمیر پوٹن کی جنگ نے روس کا بزنس ماڈل تباہ کر دیا

یوکرین کے خلاف روسی جنگ سے سیکھا گیا سبق

یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت جرمنی نے اپنے ہاں انرجی سکیورٹی کی صورت حال کو زیادہ مضبوط بنانے پر اس وقت خصوصی توجہ دینا شروع کی تھی، جب تقریباﹰ ساڑھے چار سال قبل روس نے یوکرین پر فوجی حملہ کر کے روسی یوکرینی جنگ شروع کر دی تھی۔

پابندیاں ہٹنے تک یورپ کو گیس کی ترسیل بحال نہیں کی جائے گی، روس

اس جنگ کے آغاز کے بعد تقریباﹰ پوری یورپی یونین کو گیس کی ترسیل کے ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا اور رکن ممالک کے ساتھ ساتھ برسلز میں یورپی یونین کی قیادت نے بھی اس بلاک کے لیے روس کے بجائے دیگر ممالک سے گیس کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

قبل ازیں برلن میں وزارت اقتصادیات کے اس منصوبے کی تفصیلات سے باخبر ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اس پلان کے تحت 2027ء اور 2028ء میں گیس کی نئی ذخیرہ گاہوں کی تیاری، گیس خریدنے اور اسے اسٹوریج تنصیبات میں منتقل کرنے پر 1.2 بلین یورو سے لے کر 1.5 بلین یورو (1.4 بلین ڈالر سے لے کر 1.7 بلین ڈالر) تک کی لاگت آئے گی۔

گیس پائپ لائن کی بندش کا ذمہ دار یورپ خود ہے، روس

یورپی یونین کا ہنگامی گیس منصوبے کے معاہدے پر اتفاق

اس منصوبے پر عمل درآمد کی سالانہ آپریشنل لاگت کا تخینہ 150 ملین یورو سے لے کر 180 ملین یورو تک لگایا جا رہا ہے۔

توقع ہے کہ وفاقی جرمن کابینہ اس منصوبے پر عمل درآمد کی اس سال اگست کے وسط میں منظوری دے دے گی۔

ادارت: شکور رحیم