برطانیہ نے ورک، اسٹڈی، فیملی ویزہ و دیگر امیگریشن قوانین تبدیل کردیئے

گریجویٹ ویزہ ہولڈرز کے بچوں کیلئے برطانوی ویزہ آسان، جرائم میں ملوث غیرملکیوں کے خلاف سختی کردی گئی، 12 ماہ کی معطل سزا پر بھی ملک بدری ہوگی

Sajid Ali ساجد علی اتوار 12 جولائی 2026 21:42

برطانیہ نے ورک، اسٹڈی، فیملی ویزہ و دیگر امیگریشن قوانین تبدیل کردیئے
لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی 2026ء) برطانیہ جانے اور وہاں مقیم غیر ملکیوں بشمول پاکستانیوں کے لیے برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین کا اب تک کا سب سے بڑا اور سخت ترین اوورہال متعارف کروا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں 9 جولائی 2026ء کو پیش کی جانے والی ترمیمی دستاویز "Statement of Changes HC 259" کے تحت امیگریشن قوانین کے 42 حصوں میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں، ان نئے قوانین کے تحت ویزہ شرائط کو انتہائی سخت، ملک بدری کے اختیارات کو وسیع اور ویزہ مدت سے زیادہ قیام کے قوانین کو یکساں اور لچک سے عاری بنا دیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ برطانوی ہوم آفس کی جانب سے جاری کردہ 38 صفحات پر مشتمل اس دستاویز کے نفاذ کے لیے جو مراحل طے کیے گئے ہیں، ان کے تحت 30 جولائی 2026ء کو فیملی پرمٹ سے متعلق ترامیم قانونی طور پر نافذ العمل ہو جائیں گی، 3 اگست 2026ء سے ویزہ کے دیگر تمام شعبوں بشمول ورک، اسٹڈی اور فیملی ویزہ کی ترامیم لاگو ہوں گی، وہ تمام درخواستیں، بشمول انٹری کلیئرنس، الیکٹرانک ٹریول ائتھرائزیشن یعنی ای ٹی اے اور ویزہ کی توسیع، جو 3 اگست 2026ء سے پہلے جمع کرائی جائیں گی، ان کا فیصلہ پرانے قوانین کے تحت ہی کیا جائے گا۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکومت نے 30 مختلف ویزہ کیٹیگریز جن میں لانگ ریزیڈنس، پرائیویٹ لائف اور فیملی سیٹلمنٹ شامل ہیں، ان سے تمام پرانی گنجائشیں ختم کرکے ایک سخت اور یکساں معیار نافذ کر دیا، اب ویزہ کی توسیع یا مستقل رہائش کی درخواست دیتے وقت اگر درخواست گزار برطانوی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا یا وہ امیگریشن ضمانت پر ہوا، تو سوائے چند مخصوص استثنیٰ کے اس کی درخواست فوری مسترد کر دی جائے گی۔

بتایا جارہا ہے کہ نئے قوانین کے تحت عوامی مفاد کے نام پر ملک بدری کا قانون مکمل بدل دیا گیا، 22 مارچ 2026ء یا اس کے بعد جرم کے مرتکب ہونے والے کسی بھی غیرملکی کو اگر عدالت سے 12 ماہ یا اس سے زائد کی معطل سزا بھی ملتی ہے، تو ہوم آفس اسے فوری جیل جانے والے مجرموں کے برابر قرار دے کر برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دے گا، اس کے علاوہ ماضی کی سزاؤں میں معطل سزا پانے والے افراد کو اب 'ای ٹی اے' اور چائلڈ اسٹوڈنٹ ویزہ بھی جاری نہیں کیا جائے گا۔

قوانین کے پارٹ 11 میں ترمیم کے بعد برطانوی سیکریٹری آف اسٹیٹ کو یہ واضح اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ سیاسی پناہ کے خواہشمند یورپی ممالک یا سوئس شہریوں کے ذاتی انٹرویو کا مرحلہ بائی پاس کر سکتے ہیں، اگر کاغذات سے یہ ثابت ہو کہ درخواست بالکل بے بنیاد ہے تو انٹرویو نہ ہونے کے باوجود ہوم آفس اس درخواست کو براہِ راست مسترد یا قبول کرنے کا مجاز ہوگا، جس سے کیسز کا فیصلہ تیز ہوگا۔

جب کہ نئے قانون کے تحت گریجویٹ روٹ کے تحت پوسٹ اسٹڈی ورک ویزہ میں موجود ایک بڑی قانونی خامی کو دور کر دیا گیا ہے، اب اگر کسی غیر ملکی طالب علم کے ہاں برطانیہ میں قیام کے دوران بچہ پیدا ہوتا ہے، تو وہ بچہ اپنے والدین کے گریجویٹ ویزہ کے ساتھ بطور ڈیپینڈنٹ ویزہ اپلائی کرنے کا اہل ہوگا، پرانے قانون کے تحت صرف وہی بچے اہل تھے جن کے پاس اسٹوڈنٹ ویزہ کے وقت سے ڈیپینڈنٹ ویزا موجود تھا، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ اس رعایت سے بیرونِ ملک سے نئے ڈیپینڈنٹس بلانے یا مستقل رہائش کے حصول کا راستہ نہیں کھلے گا۔

نئے قوانین کے تحت ان پارٹنرز (شریکِ حیات) کو دیئے جانے والے ویزے کی مدت کا تعین کر دیا گیا ہے جن کے اسپانسرز کے پاس برطانیہ کا 'عارضی تحفظ کا اسٹیٹس' ہے، اگر پروٹیکشن اسپانسر کو 30 ماہ کی رہائش کا پرمٹ ملا ہوا ہے، تو فیملی ویزہ کے تحت آنے والے پارٹنر کو بھی اسپانسر کے پاس باقی بچ جانے والی مدت کے برابر ہی ویزہ جاری کیا جائے گا، اس کے ساتھ ہی، بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 'اپینڈکس چلڈرن کیئر ریکوائرمنٹ' کا اطلاق فیملی روٹ پر بھی کر دیا گیا ہے تاکہ برطانیہ میں بچوں کی رہائش اور دیکھ بھال سو فیصد محفوظ اور برطانوی قوانین کے مطابق ہو۔

برطانیہ میں پہلے سے موجود رشتہ داروں کے پاس بچوں کو بلانے کے پرانے قانون جس میں شدید اور مجبور کن حالات ثابت کرنا لازم تھے، اس کو اب ختم کرکے اسے "Appendix Child Relative" کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا گیا ہے، نئے قانون کے تحت اب ایک بچہ برطانیہ میں پروٹیکشن اسٹیٹس رکھنے والے اپنے قریبی رشتہ دار کے پاس اسی صورت آ سکے گا جب اس کا اپنا کوئی والدین یا دوسرا فیملی ممبر دنیا میں نہ ہو جو اس کی دیکھ بھال کر سکے۔

کہا جارہا ہے کہ اسکلڈ ورکر ویزہ کے تحت سال 2027ء اور 2028ء میں نافذ ہونے والے تنخواہوں کے نئے قوانین کا اطلاق اب درخواست کی تاریخ کے بجائے اس بات پر ہوگا کہ آجر نے ملازم کو 'سرٹیفکیٹ آف اسپانسر شپ' کٹ آف ڈیٹ سے پہلے جاری کیا تھا یا نہیں، روزگار کے تسلسل کے حساب کتاب میں اب پیرنٹل لیو کے ساتھ ساتھ نیونیٹل یعنی نومولود بچے کی دیکھ بھال کی چھٹی کو بھی شامل کر لیا گیا ہے تاکہ ملازم کا نقصان نہ ہو۔

مزید یہ کہ فیملی ویزہ کے تحت برطانیہ میں بچوں کی رہائش اور دیکھ بھال کے انتظامات کا برطانوی قوانین کے عین مطابق ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ انڈیا کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کو وزیٹر ویزہ میں انتظامی استثنیٰ دیا گیا ہے، جب کہ اب سے ہر 5 سال بعد ان امیگریشن ریگولیشنز کا لازمی جائزہ لیا جائے گا تاکہ کاروباری اداروں اور تعلیمی اداروں پر پڑنے والے بوجھ کو مانیٹر کیا جا سکے، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔