عمرہ ویزوں کی آڑ میں جسم فروشی کا نیٹ ورک بے نقاب

ایف آئی اے نے سعودی عرب جانے والی 3 خواتین کو کراچی ایئرپورٹ پر آف لوڈ کردیا، موبائل فونز سے ریٹ لسٹ اور انڈین ایجنٹس کے ساتھ ہنڈی کا ریکارڈ برآمد

Sajid Ali ساجد علی اتوار 12 جولائی 2026 17:03

عمرہ ویزوں کی آڑ میں جسم فروشی کا نیٹ ورک بے نقاب
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جولائی 2026ء) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی امیگریشن ٹیم نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر ایک انتہائی گھناؤنے اور منظم بین الاقوامی گینگ کا پردہ چاک کر دیا، جو مقدس سفر عمرہ ویزہ کی آڑ میں خواتین کو سعودی عرب اسمگل کر کے تجارتی جنسی استحصال کے لیے استعمال کر رہا تھا، ایف آئی اے نے شک کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب جانے والی تین خواتین کو جہاز پر سوار ہونے سے قبل ہی روک کر گرفتار کر لیا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق تینوں خواتین پاکستانی پاسپورٹس اور عمرہ ویزوں پر سعودی عرب روانہ ہو رہی تھیں، امیگریشن کلیئرنس کے دوران جب ان کے سفری دستاویزات اور فراہم کردہ معلومات مشکوک معلوم ہوئیں، تو امیگریشن حکام نے انہیں مزید جانچ پڑتال اور تفصیلی انٹرویو کے لیے روک لیا، پوچھ گچھ کے دوران جب خواتین سے ان کے سفر کے حوالے سے سخت سوالات کیے گئے، تو انہوں نے اس گھناؤنے بین الاقوامی نیٹ ورک کا اعتراف کر لیا، خواتین کی شناخت مسکان دختر اللہ دتہ، نسرین ندیم زوجہ محمد ندیم اور سویرا زوجہ محمد کامران کے ناموں سے ہوئی ہے۔

(جاری ہے)

مسکان نامی خاتون نے تفتشی حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ ماضی میں اس کا اپنا شوہر سندھ کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں اسے مبینہ طور پر غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے کسٹمرز فراہم کرتا تھا، بعد ازاں کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں واقع ایک اسپا اینڈ مساج سینٹر میں کام کرنے لگی، جہاں نیٹ ورک کی دیگر دو خواتین نسرین اور سویرا سے ملاقات ہوئی، پہلے بھی ڈیفنس کراچی میں جسم فروشی کے الزام میں گرفتار ہو کر ایک ماہ جیل کاٹ چکی ہوں۔

بتایا گیا ہے کہ دوسری خاتون سویرا کے موبائل فون کی جب ایف آئی اے کے ماہرین نے جانچ پڑتال کی، تو اس میں سے غیر اخلاقی سرگرمیوں سے متعلق باقاعدہ ڈیجیٹل ریٹ لسٹ اور واٹس ایپ کا ریکارڈ برآمد ہوا، سویرا نے دورانِ تفتیش بتایا کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے اسپا سینٹر کے لیے آن لائن کسٹمر سروس کے ذریعے خواتین کو مختلف گاہکوں سے ملوانے کا کام کر رہی تھی اور اس مکروہ دھندے میں وہ فی کس 2 ہزار روپے کمیشن وصول کرتی تھی۔

معلوم ہوا ہے کہ کیس کا سب سے خطرناک اور بین الاقوامی پہلو نسرین ندیم نامی خاتون کے موبائل فون سے سامنے آیا، جس کے فون سے سعودی عرب میں موجود متعدد ایجنٹس، جن میں ماجد، مرتضیٰ، الطاف، عمران، فیصل، خرم اور ایک انڈین شہری سلمان شامل ہیں، ان کے ساتھ مشکوک ترین واٹس ایپ چیٹس ملی ہیں، واٹس ایپ ریکارڈ سے یہ واضح شواہد ملے کہ یہ منظم نیٹ ورک پاکستان سے لڑکیاں سعودی عرب بھجوانے، وہاں ان کی رہائش اور ٹرانسپورٹ کے انتظامات کرنے اور اس کالے دھندے سے کمائی گئی رقم کو حوالہ اور ہنڈی کے غیر قانونی چینلز کے ذریعے پاکستان منتقل کرنے میں ملوث تھا۔

ایف آئی اے ترجمان نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات پکی ہو چکی ہے کہ عمرہ ویزوں کی آڑ میں معصوم اور نیٹ ورک سے وابستہ خواتین کو سعودی عرب اسمگل کرنے اور وہاں تجارتی جنسی استحصال کے لیے ایک انتہائی منظم گینگ کام کر رہا ہے، تینوں خواتین کو پرواز سے آف لوڈ کرنے کے بعد اب مزید گہرائی سے تفتیش اور نیٹ ورک کے دیگر مفرور اراکین کی گرفتاری کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔