خانہ جنگی سے متاثرہ یمن میں یو این اداروں کی طبی امدادی کارروائیاں

یو این منگل 21 جولائی 2026 23:45

خانہ جنگی سے متاثرہ یمن میں یو این اداروں کی طبی امدادی کارروائیاں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 21 جولائی 2026ء) یمن کو طویل خانہ جنگی کے نتیجے میں بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے جہاں ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (اوچا) کی امدادی کارروائیوں کے نتیجے میں اب ہزاروں افراد کو ان کے گھروں کے قریب ضروری طبی سہولیات میسر آ رہی ہیں۔

اوچا نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے چار دور افتادہ اضلاع میں ہنگامی جراحی، ماں اور بچے کی صحت، وباؤں سے نمٹنے اور بیماریوں کے علاج کی سہولیات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

Tweet URL

ایک سالہ منصوبے سے 42 ہزار لوگ مستفید ہوئے ہیں جن میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے خاندان، خواتین، بچے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد شامل ہیں۔

(جاری ہے)

یہ خدمات ضلع ابیان، البیضا، الحشا اور فرع العدین میں فراہم کی گئی ہیں۔

وبائی خطرات کی روک تھام

اگست 2025 سے فروری 2026 کے درمیان 'ڈبلیو ایچ او' کی معاونت سے البیضا، فرع العدین اور لودر کے ہسپتالوں میں 864 آپریشن کیے گئے جو منصوبے کے ابتدائی ہدف سے دوگنا زیادہ ہیں۔ اس پروگرام کے تحت ہسپتالوں کو ضروری ادویات، جراحی کا سامان اور زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے درکار اشیا بھی فراہم کی گئیں۔

یمن میں ہیضہ، خسرہ اور دیگر متعدی بیماریوں کی وبائیں بھی پھوٹتی رہتی ہیں جس کے نتیجے میں پہلے ہی مشکلات کا شکار آبادی مزید خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اوچا کی مالی معاونت سے 'ڈبلیو ایچ او' نے طبی مراکز کو ہنگامی ادویات، او آر ایس، آئی وی فلوئیڈ اور ہنگامی طبی مقاصد کے لیے درکار سامان فراہم کیا ہے۔

طبی ٹیموں نے وباؤں کی تحقیقات، متاثرہ افراد کے رابطوں کا سراغ لگانے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 207 فیلڈ مشن بھی انجام دیے۔

یہ تعداد بھی منصوبے کے مقررہ ہدف سے زیادہ رہی جس سے وسیع پیمانے پر وبائی خطرات کو کم کرنے میں مدد ملی۔

زچہ بچہ کی صحت کا تحفظ

اس منصوبے کے ذریعے کمزور اور ضرورت مند آبادی کو طبی سہولیات مہیا کرنے والے دو ہسپتالوں میں زچہ بچہ کی صحت کی خدمات بھی جاری رکھی گئیں۔ اس دوران تقریباً 2,700 بچوں کی پیدائش میں معاونت فراہم کی گئی جن میں آپریشن کے ذریعے ہونے والی ولادتیں بھی شامل تھیں۔

اس عرصہ میں دونوں ہسپتالوں میں زچگی کے دوران کسی بھی خاتون کی موت ریکارڈ نہیں ہوئی۔

منصوبے کے تحت ذیابیطس، بلند فشار خون اور دل کی دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد کے علاج کا تسلسل بھی برقرار رکھا گیا۔ چار طبی مراکز کو ضروری ادویات فراہم کی گئیں جس کے نتیجے میں 5,200 سے زیادہ مریضوں کو بروقت علاج مہیا کیا گیا۔

ملک میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر جعفر حسین نے کہا ہے کہ 'یمن امدادی فنڈ' کے ذریعے اوچا کی فراہم کردہ معاونت نے یہ یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے کہ انسانی بحران کے باوجود کمزور اور ضرورت مند آبادی کو ضروری طبی سہولیات مسلسل میسر رہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ یمن میں انسانی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اپنی معاونت جاری رکھے تاکہ ضرورت مند اور کمزور طبقات کو وہ طبی خدمات مسلسل ملتی رہیں جن کی انہیں سخت ضرورت ہے۔