انسانی پھیپھڑوں سے متاثر ’’سانس لینے والا‘‘ جدید ہائیڈروجیل تیار

نئی ٹیکنالوجی سے طبی سینسرز، زخموں کی ڈریسنگ اور پہننے کے قابل طبی آلات زیادہ مؤثر اور آرام دہ بنائے جا سکیں گے، تحقیق

اتوار 26 جولائی 2026 16:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جولائی2026ء) سائنس دانوں نے انسانی پھیپھڑوں کی ساخت سے متاثر ہو کر ایک جدید ’’سانس لینے والا‘‘ (Breathable) ہائیڈروجیل تیار کیا ہے، جس سے مستقبل میں پہننے کے قابل طبی سینسرز، زخموں کی ڈریسنگ، طبی پیچز اور دیگر طبی آلات کی کارکردگی اور آرام دہ استعمال میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے۔بین الاقوامی سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے انجینئرز نے ایسا ہائیڈروجیل تیار کیا ہے، جس کے اندر ہوا سے بھرے انتہائی باریک تین جہتی راستوں کا ایک مستحکم جال موجود ہے۔

یہ ساخت آکسیجن اور پانی کے بخارات کو باآسانی گزرنے دیتی ہے، جبکہ ہائیڈروجیل اپنی نمی، لچک اور نرمی بھی برقرار رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

محققین کے مطابق روایتی ہائیڈروجیل میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث وہ گرمی اور پسینہ جذب کر لیتے ہیں، جس سے جلد میں جلن پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ طبی سینسرز کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی ان مسائل پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیا ہائیڈروجیل تقریباً 70 فیصد پانی پر مشتمل ہونے کے باوجود آکسیجن کو گزرنے دینے کی صلاحیت میں روایتی ہائیڈروجیل کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا زیادہ مؤثر ہے۔اس کامیابی کے لیے سائنس دانوں نے ہائیڈروجیل میں معمولی مقدار میں سلیکا ایروجیل کے ذرات شامل کیے، جو ہوا سے بھرے باریک راستوں کو برقرار رکھتے ہیں۔

اس منفرد ساخت کے باعث آکسیجن اور پانی کے بخارات مواد کے اندر آزادانہ طور پر حرکت کرتے رہتے ہیں، جس سے جلد خشک، ٹھنڈی اور زیادہ آرام دہ رہتی ہے۔تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ نیا ہائیڈروجیل سلیکون اور پولی یوریتھین سے تیار کردہ طبی پیچز کے مقابلے میں 10 سے 100 گنا زیادہ پانی کے بخارات خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ 10 ہزار مرتبہ کھینچے جانے کے بعد بھی اس نے اپنی تقریباً 95 فیصد ہوا گزارنے کی صلاحیت برقرار رکھی۔

سائنس دانوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے اور طبی استعمال سے قبل اس کی طویل مدتی حفاظت، بڑے جانوروں پر آزمائش، جراثیم سے پاک کرنے کے طریقہ کار، صنعتی پیمانے پر تیاری، ذخیرہ کرنے کی مدت اور متعلقہ ریگولیٹری منظوری سمیت متعدد مراحل سے گزرنا باقی ہیں۔محققین نے کہاکہ مستقبل میں اس جدید ہائیڈروجیل کو جلد پر استعمال ہونے والی طبی مصنوعات کے علاوہ ٹشو انجینیئرنگ اور جسم کے اندر نصب کیے جانے والے طبی آلات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں خلیوں تک آکسیجن کی مؤثر فراہمی ایک اہم طبی چیلنج سمجھی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :