اسلامسٹوں اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں میں کیا کچھ مشترک؟

DW ڈی ڈبلیو پیر 3 اگست 2026 12:40

اسلامسٹوں اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں میں کیا کچھ مشترک؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 03 اگست 2026ء) برلن کی پرائیڈ پریڈ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے پورے جرمنی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ حملہ آور کی شناخت 21 سالہ عبدالبالوت کے نام سے ہوئی، جو جرمن شہری تھا اور جرمن سکیورٹی اداروں کے نزدیک ایک اسلامسٹ شدت پسند کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس نے ماضی میں شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت کی کوشش بھی کی تھی۔

رپورٹوں کے مطابق عبدالبالوت دو مرتبہ مختلف جرائم میں سزا یافتہ رہ چکا تھا اور حملے کے وقت ایک اور مقدمے میں ممکنہ قید کی سزا سے متعلق عدالتی فیصلے کا منتظر تھا۔

لندن میں قائم انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک ڈائیلاگ کے پالیسی اور تحقیق کے ڈائریکٹر جیکب گل، جو کئی برسوں سے اسلام پسندانہ انتہا پسندی پر تحقیق کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری کا نشانہ بنایا جانا غیر متوقع نہیں تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامسٹ انتہا پسندانہ نظریات میں ہم جنس پسندوں اور صنفی اقلیتوں کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق داعش نے اپنی نام نہاد ''خلافت‘‘ کے دور میں ایسے افراد کو، جن پر ہم جنس پسندی کا الزام لگایا جاتا تھا، قتل کیا تھا۔

جیکب گل نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں لندن، اوسلو، زیورخ اور ویانا سمیت متعدد شہروں میں بھی پرائیڈ پریڈز کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

مختلف انتہا پسند تحریکوں میں مماثلتیں

جیکب گل کے مطابق اسلامسٹ انتہا پسندی اور انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسند تحریکوں کے درمیان کئی گہری مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ان کے بقول دونوں طرح کے انتہا پسندانہ نظریات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے وجود سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

جیکب گل کا کہنا ہے کہ دونوں گروہ اس نظریے پر یقین رکھتے ہیں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان پرامن بقائے باہمی ممکن نہیں۔

ان کے مطابق جرمنی میں بعض نوجوان مسلمانوں کو امتیازی سلوک، اجتماعی سماجی زندگی میں کنارے کی طرف دھکیلے جانے اور اسلام سے متعلق منفی خبروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جسے اسلامسٹ شدت پسند اپنے مفاد کے لیے جرمن ریاست کی مبینہ اسلام دشمنی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ''اسلامسٹ انتہا پسندوں کے نزدیک دائیں بازو کے شدت پسند پورے جرمن معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب دائیں بازو کے انتہا پسند اسلامسٹ شدت پسندوں کو تمام مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔

یوں معاشرے کو دو متحارب گروہوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘

جیکب گل کے مطابق دونوں انتہا پسندانہ نظریات کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ان میں مغربی لبرل معاشرے سے نفرت، سازشی نظریات پر یقین، سرکاری اداروں پر عدم اعتماد، اینٹی فیمینسٹ رویے اور ایل جی بی ٹی کیو پلس کمیونٹی سے دشمنی شامل ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایل جی بی ٹی کیو پلس برادری سے مخالفت کی وجوہات دونوں گروہوں میں مختلف ہیں، تاہم نتیجہ ایک جیسا ہے۔

ان کے مطابق اسلامسٹ انتہا پسند مذہبی بنیادوں پر ہم جنس پسندی کو خدا کے احکامات کے خلاف سمجھتے ہیں، جبکہ انتہائی دائیں بازو کے گروپ حیاتیاتی اور نسلی نظریات کی بنیاد پر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے شرح پیدائش میں کمی آتی ہے اور قوم کی طاقت کمزور ہوتی ہے۔

جرمنی میں سکیورٹی ادارے کئی برسوں سے ایسے نوجوان اور پرتشدد رجحان رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندوں کے ابھرنے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو پرائیڈ پریڈز اور ایل جی بی ٹی کیو پلس تقریبات کے خلاف متحرک ہو رہے ہیں۔

انتہا پسندی کو ہوا دینے میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر کا کردار

ماہرین کے مطابق انتہا پسندانہ نظریات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز مواد کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔

جیکب گل کا کہنا ہے کہ روایتی ذرائع ابلاغ کو بھی یکطرفہ رپورٹنگ اور الزام تراشی سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے معاشرے میں تقسیم اور انتہا پسندانہ رجحانات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق برلن میں پرائیڈ پریڈ پر حملے کے بعد حملہ آور کی شہریت پر ہونے والی بحث اس مسئلے کی ایک نمایاں مثال ہے۔

انہوں نے کہا، ''میرے خیال میں حملہ آور کی قومیت کو غیر ضروری طور پر موضوعِ بحث بنانا ایک مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے مختلف گروہوں کے درمیان دو درجوں پر مشتمل معاشرہ تشکیل دینے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے عمل کو روکنے کے لیے یہ طرزِ عمل ہرگز سودمند نہیں۔‘‘

جیکب گل کے مطابق معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مشترکہ اقدار اور مشترکہ مفادات کو زیادہ اجاگر کیا جائے۔

ادارت: مقبول ملک