کولگام واقعہ، فاروق عبداللہ نے سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے، غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ

پیر 3 اگست 2026 22:14

سری نگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 اگست2026ء) مقبوضہ کشمیر کے ضلع کولگام میں مزدوروں پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد سیاسی ردِعمل میں شدت آ گئی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ جموں و کشمیر فاروق عبداللہ نے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی انتظامات، سرحدی نگرانی اور حملے کے محرکات سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے واقعے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر حکومت کے مطابق دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے تو پھر بے گناہ مزدوروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کون ہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر سرحدی نگرانی مؤثر اور مکمل کنٹرول میں ہے تو حملہ آور علاقے تک کیسے پہنچے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دینے کے مطالبات کے دوران ایسے واقعات کا رونما ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ان کے مطابق جنتر منتر پر ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے بعد کولگام میں پیش آنے والا حملہ شفاف تحقیقات کا متقاضی ہے۔فاروق عبداللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی جانبداری سے پاک، آزادانہ اور ایماندارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس سے وابستہ بعض رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے واقعات کے محرکات اور پس منظر کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں۔تاحال بھارتی حکومت یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے ان الزامات اور سوالات پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔