میر رضا کیس، کرائم سین پر پہنچنے والے ایدھی اہلکار کے اہم انکشافات

جمعہ 14 اگست 2026 21:56

میر رضا کیس، کرائم سین پر پہنچنے والے ایدھی اہلکار کے اہم انکشافات
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 اگست2026ء) نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس میں کرائم سین پر سب سے پہلے پہنچنے والے ایدھی ریسکیو اہلکار نے جائے وقوعہ کی صورتحال اور لاش سے متعلق اہم تفصیلات بیان کردی ہیں۔ایدھی رضاکار محسن شاہ کے مطابق میر رضا کی لاش ملنے کی اطلاع پر جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں پولیس کی موبائلیں موجود تھیں، تاہم جھاڑیوں اور گملوں کی وجہ سے لاش فوری طور پر دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

پولیس کی مدد سے جھاڑیاں اور گملے ہٹائے گئے، جس کے بعد لاش کو سیدھا کیا گیا تو اس پر گولی لگنے کا نشان سامنے آیا۔محسن شاہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہورہا تھا کہ لاش پر کسی قسم کا کیمیکل پھینکا گیا ہے۔ لاش کی شرٹ اٹھانے پر جسم پر گولی کا نشان دکھائی دیا، جس سے خون بھی بہہ رہا تھا۔

(جاری ہے)

ایدھی رضاکار کے مطابق انہیں ابتدائی طور پر ایک لاوارث لاش اٹھانے کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم موقع پر پہنچنے کے بعد انہوں نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ لاش پر گولی لگنے کا نشان موجود ہے اور معاملہ معمولی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں ہدایت کی کہ لاش کو کچھ دیر وہیں رہنے دیا جائے کیونکہ پولیس کے افسران جائے وقوعہ پر پہنچنے والے تھے۔ایک اور ایدھی رضاکار جاوید نے بتایا کہ مقتول کا چہرہ بری طرح متاثر تھا اور فنگر پرنٹس حاصل کرنے میں بھی دشواری پیش آرہی تھی۔ ان کے مطابق جلد خراب ہوچکی تھی اور بظاہر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے چہرہ جلا ہوا ہو۔میر رضا کیس میں پولیس پہلے ہی مختلف شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کررہی ہے، جبکہ کرائم سین سے ملنے والے شواہد، لاش کی حالت اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو تفتیش کا اہم حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ پولیس کی جانب سے واقعے کے محرکات اور قتل میں ملوث افراد کا سراغ لگانے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔