خیبرپختونخوا اسمبلی میں یوریا کھاد کی قلت اور اس پر عائد پابندی کے معاملے پر صوبائی وزیر آبنوشی کا واک آوٹ

پیر 17 اگست 2026 20:15

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اگست2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی میں یوریا کھاد کی قلت اور اس پر عائد پابندی کے معاملے پر صوبائی وزیر آبنوشی فضل شکور نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کسانوں کو یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔نکتۂ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے فضل شکور نے کہا کہ دہشتگردی کے باعث صوبے کی صنعت اور کاروبار پہلے ہی تباہ ہوچکے ہیں، صرف زراعت کا شعبہ کسی حد تک چل رہا ہے، اسے بھی مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں یوریا کھاد دستیاب نہیں، جس سے کسان شدید متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ یوریا کھاد سے بارودی مواد تیار کیا جاتا ہے، تاہم اس مسئلے کا حل کھاد کی فراہمی بند کرنا نہیں بلکہ اس کی مؤثر نگرانی ہے۔

فضل شکور نے تجویز دی کہ یوریا کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے اور زمینداروں سے ضمانت لی جائے کہ کھاد صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشتگردی کے خدشے کے باعث یوریا کی فراہمی بند کردی جائے گی تو کیا مستقبل میں بازار بھی بند کردئیے جائیں گے؟ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یوریا کھاد کے ناجائز استعمال کی روک تھام کے لیے پابندیاں عائد کی ہیں اور اس حوالے سے سخت ایس آر اوز جاری کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ فرٹیلائزر کی مقامی پیداوار کے لیے ایک کمپنی قائم کی جائے۔ آفتاب عالم نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 40 سال سے دہشتگردی جاری ہے اور امن و امان خراب کرنے والے عناصر کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔وزیر قانون نے یقین دلایا کہ یوریا کھاد کا معاملہ وزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور ایسی کوئی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی جو صوبے کی لائف لائن اور زرعی شعبے کو متاثر کرے۔بعدازاں اسپیکر کی ہدایت پر ارکان اسمبلی طارق اعوان، نعیم، سجاد برکوال اور فیصل ترکی نے صوبائی وزیر فضل شکور سے ملاقات کی اور انہیں منا کر دوبارہ ایوان میں لے آئے۔