منشیات کیس؛ تین ملزمان کی اپیلیں منظور، 14،14 سال قید کی سزائیں کالعدم

استغاثہ اپنا مقدمہ بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، غلط مقدمہ درج کیا گیا یا انتہائی ناقص تفتیش ہوئی، ہائیکورٹ

منگل 18 اگست 2026 22:54

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اگست2026ء) سندھ ہائیکورٹ نے منشیات رکھنے کے الزام میں سزا پانے والے تین ملزمان ارسلان، عین الدین اور علی مرتضیٰ کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

(جاری ہے)

عدالت نے آبزرویشن دی کہ تفتیشی افسر کے بیانات اور پیش کی گئی دستاویزات میں واضح تضاد موجود ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یا تو غلط مقدمہ درج کیا گیا یا انتہائی درجے کی نااہل تفتیش کی گئی۔عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمان کے خلاف کوئی اور مقدمہ درج نہیں تو انہیں رہا کردیا جائے۔استغاثہ کے مطابق ملزمان کے خلاف مئی 2024 میں 5،5 کلو سے زائد منشیات رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ایڈیشنل سیشن جج 8 نے تینوں ملزمان کو 14،14 سال قید اور 4،4 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔