کمبوڈیا کا آسیان سے موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں زرعی نظام مضبوط بنانے کا مطالبہ
منگل 25 اگست 2026 11:40
(جاری ہے)
درحقیقت، یہ اب محض موسمیاتی تبدیلی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ ایک شدید موسمیاتی بحران بن چکا ہے، جس سے عالمی برادری کو مل کر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
چیام یِپ نے کہا کہ موسم کی غیر یقینی صورتحال، شدید موسمی واقعات اور ماحولیاتی انحطاط خطے میں زرعی پیداوار کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں اور غذائی نظام پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی لچک خوراک کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے لیے قانون، پالیسی اور معاشرے کی سطح پر جامع اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نےکہا کہ اپنے زرعی اور غذائی نظام کو زیادہ مضبوط اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانا انتہائی ضروری ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے خوراک کی مستحکم فراہمی یقینی بنانے، اپنی برادریوں کے روزگار کے تحفظ اور طویل مدتی معاشی و سماجی ترقی کو برقرار رکھنے کا یہی واحد راستہ ہے۔جنوب مشرقی ایشیا بھر کے کسان غیر یقینی موسمی حالات، شدید خشک سالی اور تباہ کن سیلابوں سمیت متعدد خطرات سے دوچار ہیں، ان خطرات کو کم کرنے کے لیے چیام یِپ نے علاقائی مالی وسائل کے استعمال میں حکمتِ عملی پر مبنی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے زیادہ مضبوط زراعت، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات، آبی وسائل کے انتظام اور جدید ابتدائی انتباہی نظام تیار کرنے میں زیادہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔چیام یِپ نے آسیان کی ذمہ دارانہ سرمایہ کاری سے متعلق رہنما اصول (ASEAN RAI) کو بھی اہم قرار دیا، جنہیں 2018 میں اپنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ رہنما اصول خطے کے خوراک، زراعت اور جنگلات کے شعبوں میں آنے والی سرمایہ کاری کو محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ASEAN RAI میں خوراک کا تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنا ذمہ دارانہ سرمایہ کاری کے بنیادی ستون قرار دیے گئے ہیں۔چیام یِپ نے زور دیا کہ قوانین منظور کرنا صرف پہلا قدم ہے۔ انہوں نے خطے کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کی فعال نگرانی کریں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قومی زرعی حکمتِ عملیاں اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے والی پالیسیاں حقیقتاً خوراک اور موسمیاتی تحفظ کے اہداف پورے کر رہی ہیں۔ ■مزید بین الاقوامی خبریں
-
وزیرِ مملکت محمد عون چوہدری کا پاکستانی قونصل خانے کا دورہ
-
افغانستان پریمیئر لیگ ٹی20 کی تین فرنچائزز اور ’’کوہِ ظفر‘‘ ٹرافی کی رونمائی
-
ویمنز ایشیا کپ 2026; TPT 360 کو آفیشل براڈکاسٹ پروڈکشن کی ذمہ داری مل گئی
-
پاکستان بزنس کونسل شارجہ کے وفد کا فلپائن قونصلیٹ جنرل دبئی کا دورہ
-
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 469 ہوگئی، سینکڑوں افراد تاحال لاپتا
-
مذاکرات پسپائی کی علامت نہیں بلکہ قومی مفادات کے تحفظ کی صورت میں مزاحمت کا حصہ ہیں: باقرقالیباف
-
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے باعث اموات 270 ہوگئیں، 644 سیاح لاپتہ
-
دنیا مصنوعی ذہانت کے ذریعہ آنے والی تبدیلیوں کے لیے خطرناک حد تک تیار نہیں ، بل گیٹس
-
نیپال اورتبت کی سرحد پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 165 افراد ہلاک، 800 غیر ملکیوں سمیت 1500 افراد لاپتا
-
آبنائے ہرمز سے کوموڈیٹی بحری جہازوں کی آمد و رفت 3 ماہ کی کم ترین سطح پرآگئی
-
ہیٹی میں گینگ کا خوفناک حملہ، چرچ میں پناہ لینے والے 40 افراد ہلاک
-
غزہ میں پتنگ دیکھنے پر بھی حملے کی دھمکی، حماس کا والدین کو بچوں کو باز رکھنے کی ہدایت
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.