کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش اور گمشدگی کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا

خاتون نے پولیس کو سچ بتا دیا کہ وہ حاملہ نہیں تھی بلکہ جعلی الٹرا ساؤنڈ بنوایا تھا، خاتون اسپتال جاکر الٹراساؤنڈ کرواتی لیکن ڈاکٹر کو نہیں دکھاتی تھی، مِس کیرج کے بعد پریشر میں آکر خود کو حاملہ ظاہرکیا۔ خاتون کا بیان

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 29 اگست 2026 22:36

کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش اور گمشدگی کے معاملے کا ڈراپ سین ..
کراچی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 29 اگست 2026ء ) کراچی کے علاقے ناظم آباد میں نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش اور گمشدگی معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا ہے۔ میڈیا کے مطابق خاتون نے پولیس کو سچ بتا دیا کہ وہ حاملہ نہیں تھی بلکہ جعلی الٹرا ساؤنڈ بنوایا تھا۔ خاتون کی 2024 میں شادی ہوئی تھی اور پھر مس کیرج ہوگیا تھا، خاتون پریشر میں آکر خود کو حاملہ ظاہر کیا۔

خاتون اسپتال جاکر الٹرا ساؤنڈ کرواتی لیکن کسی ڈاکٹر کو نہیں دکھاتی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق اسپتال میں خاتون کا بغیر ٹیسٹ آپریشن کرنا ڈاکٹر اور عملے کی سنگین غفلت ہے، فیملی کی درخواست پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ تفتیشی حکام کے مطابق خاتون کو آپریشن تھیٹر منتقل کرنے سے قبل اسپتال عملے نے باقاعدہ طبی معائنہ نہیں کیا۔

(جاری ہے)

دوسری جانب کراچی کے علاقے ناظم آباد کے نجی اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کے معاملے پر خاتون کی 16 فروری 2026 کو کرائے گئے الٹراساؤنڈ رپورٹ کی بھی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، رپورٹ کے مطابق مریضہ کو 13 ہفتوں سے زائد عرصے تک ماہواری نہیں ہوئی تھی، الٹراساؤنڈ میں رحم کا سائز اور ساخت معمول کے مطابق ہے اور حمل کی تصدیق نہیں ہوتی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق الٹراساؤنڈ رپورٹ میں رحم کو آگے کی جانب جھکا ہوا اور نارمل سائز کا قرار دیا گیا، جس کا سائز 6.9 × 3.6 × 4.1 سینٹی میٹر ریکارڈ کیا گیا، اینڈومیٹریئم مرکزی طور پر موجود تھا اور اس کی موٹائی 1.2 سینٹی میٹر تھی۔ دائیں اووری بڑی اور پولی سسٹک اووری جیسی پائی گئی، تاہم رپورٹ کے مطابق اس سے حمل کی تصدیق نہیں ہوتی۔ ماہواری نہ آنے کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، حمل کی صورتحال جانچنے کیلئے سیرم بی ایچ سی جی ٹیسٹ تجویز کیا گیا تھا۔

سونولوجسٹ ڈاکٹر شبنم نبی نے بھی سیرم بی ایچ سی جی ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضہ 27 اگست کو ایک مبینہ جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ لے کر اسپتال آئیں، جس پر 8 اگست کی تاریخ درج تھی۔ انتظامیہ کے مطابق رپورٹ پر ڈاکٹر کے مبینہ جعلی دستخط اور اسپتال کا جعلی لوگو موجود تھا۔ اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ مریضہ شدید درد میں تھیں، جس کے باعث رپورٹ کی تفصیلات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور فوری طور پر آپریشن شروع کردیا گیا۔

آپریشن کے دوران بچہ دانی بہت چھوٹی پائی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق صورتحال سے متعلق والد کو لیبر روم میں بلا کر دکھایا گیا تاہم وہ گھبرا کر آپریشن روم سے باہر چلے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق آپریشن کے بعد حقیقت سامنے آئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھیں۔ تمام ریکارڈ میڈیکل بورڈ کو فراہم کردیا گیا ہے اور میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے بعد صورتحال مکمل طور پر واضح ہوجائے گی۔