اقوام متحدہ کی بقاء کے لیے اصلاحات ضروری، اینالینا بیئربوک

یو این ہفتہ 5 ستمبر 2026 04:30

اقوام متحدہ کی بقاء کے لیے اصلاحات ضروری، اینالینا بیئربوک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 05 ستمبر 2026ء) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کی سبکدوش ہونے والی صدر اینالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ تقسیم اور انتشار کا شکار دنیا میں اقوام متحدہ کے وجود، تسلسل اور موثر کردار کو یقینی بنانے کے لیے اس میں اصلاحات کا عمل جاری رکھنا لازم ہے۔

اپنی ایک سالہ مدت صدارت کے اختتام سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں ادارے کو کم بیوروکریسی اور زیادہ بہتر کارکردگی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے اصلاحاتی منصوبے 'یو این 80' کے تحت لیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد، ادارے کے منشور کی پاسداری کے بعد ان کے دور صدارت کی دوسری بڑی ترجیح تھی۔

اینالینا بیئربوک نے مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا جن میں کم حجم کے بجٹ کی منظوری اور مالیاتی قواعد میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ان تبدیلیوں میں اس ضابطے کا خاتمہ قابل ذکر ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کو موصول نہ ہونے والی رقوم بھی رکن ممالک کو واپس کرنا پڑتی تھیں۔

79ویں اجلاس کے نمایاں اقدامات

جنرل اسمبلی کی صدر نے اپنی مدت صدارت میں منظور کی جانے والی متعدد قراردادوں اور اقدامات کا ذکر بھی کیا۔ ان میں نیویارک اعلامیہ بھی شامل ہے جسے ستمبر 2025 میں 140 ممالک کی اکثریت نے منظور کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعلامیے کے نتیجے میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کو مزید موثر بنایا گیا اور سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 منظور کی۔

تاہم، اینالینا بیئربوک نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ دنیا میں جنگوں اور تنازعات کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ امن و سلامتی سے متعلق معاملات پر سلامتی کونسل میں تعطل برقرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے آئندہ صدر اور اقوام متحدہ کے نئے سیکرٹری جنرل ایک ایسے وقت میں اس ادارے کی قیادت کی بھاری ذمہ داری سنبھالیں گے جب دنیا انتہائی غیر یقینی اور تیز رفتار تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔

10ویں سیکرٹری جنرل کا انتخاب

اینالینا بیئربوک نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے نئے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے عمل کو مزید کھلا، شفاف اور جامع بنانے کے ساتھ اس میں جنرل اسمبلی کے کردار کو مضبوط کرنے کے لیے بھی کام کیا ہے۔ یہ وہی مطالبات ہیں جو اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں رکن ممالک نے پیش کیے تھے۔

انتخاب کے اس عمل نے رکن ممالک اور عالمی برادری کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ امیدواروں سے ان کے مستقبل سے متعلق تصور اور حالیہ مشکل حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کرنے کے لے ان کی صلاحیت کے بارے میں سوالات کر سکیں۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اپنے دسویں سیکرٹری جنرل کا انتخاب اس بات کا بھی پیغام ہو گا کہ آیا یہ ادارہ واقعی ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جن کی خدمت کے لیے اسے قائم کیا گیا ہے جن میں نصف تعداد خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ اس ادارے کی قیادت کون کرتا ہے، یہ فیصلہ دنیا بھر کے اربوں انسانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔