وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے جدید کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کا افتتاح کر دیا

منگل 8 ستمبر 2026 13:13

وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد پولیس کے جدید کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 ستمبر2026ء) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پولیس کے جدید کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر کا افتتاح کر دیا۔نئے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے آئی جی اسلام آباد اپنے دفتر سے سیف سٹی، پولیس آپریشنز اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کو براہِ راست مانیٹر اور کمانڈ کر سکیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اس جدید سینٹر سے اسلام آباد پولیس کی کمانڈ، مانیٹرنگ، کوآرڈینیشن اور فوری فیصلہ سازی کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔سیف سٹی سمیت پولیس کے تمام اہم آپریشنل نظام ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول پلیٹ فارم سے منسلک ہوں گے، کسی بھی ہنگامی یا سکیورٹی صورتحال میں آئی جی اسلام آباد براہِ راست صورتحال مانیٹر کرکے فوری احکامات جاری کر سکیں گے۔

(جاری ہے)

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جدید اے آئی اور ٹیکنالوجی بیسڈ سسٹمز سے پولیس کی کارکردگی، رسپانس ٹائم اور فیلڈ فورس کی مانیٹرنگ مزید موثر ہوگی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے سینٹر کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا اور جدید مانیٹرنگ و کمانڈ سسٹم کا جائزہ لیا۔وفاقی وزیر داخلہ کو سیف سٹی کے ساتھ مربوط نظام، پولیس آپریشنز، فیلڈ فورس کی مانیٹرنگ، ایمرجنسی رسپانس اور جدید اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی بارے بریفنگ دی گئی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے سینٹر کا بنیادی مقصد آئی جی اسلام آباد کو ایک ہی مقام سے پوری اسلام آباد پولیس کی موثر کمانڈ اور مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس جدید نظام سے پولیس کے مختلف یونٹس کے درمیان رابطہ اور کوآرڈینیشن مزید بہتر ہوگا، کسی بھی واقعے یا ہنگامی صورتحال میں بروقت معلومات، فوری فیصلہ سازی اور تیز رفتار پولیس رسپانس ممکن ہوگا۔

محسن نقوی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کی کمانڈ، مانیٹرنگ اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس سینٹر سے فیلڈ میں پولیس کی کارکردگی کی موثر نگرانی بھی ممکن ہوگی۔ شہریوں کا تحفظ، پولیس کی کارکردگی میں بہتری اور اسلام آباد میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے۔ اس موقع پر آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈی جی آئی جی اسلام آباد اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔