اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے کا منصوبہ، مقامی سطح پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار کرلی گئیں

اسلام آباد کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی بہتری کیلئے یہ ٹیکس لگایا جائے گا، سرکاری ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، دیگر تعلیمی اداروں، فلاحی منصوبوں اور شہری انتظامیہ کے اخراجات کیلئے استعمال ہوگا؛ رپورٹ

Sajid Ali ساجد علی منگل 8 ستمبر 2026 14:00

اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے کا منصوبہ، مقامی سطح پر نیا ٹیکس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 ستمبر 2026ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو ایک خودمختار انتظامی یونٹ بنانے کی تیاریوں کے سلسلے میں مقامی سطح پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار کرلی گئیں۔ دنیا نیوز کے مطابق باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نیا ٹیکس نظام اسلام آباد کی حد تک جمع ہوگا اور شہر کی بنیادی سہولیات اور انتظامی ڈھانچے پر ہی خرچ کیا جائے گا، اسلام آباد کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے یہ ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا، نیا ریونیو اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، دیگر تعلیمی اداروں، فلاحی منصوبوں اور شہری انتظامیہ کے اخراجات کے لیے استعمال ہوگا۔

بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ٹیکس کا حتمی تخمینہ اور سفارشات تیار کی جا رہی ہیں جنہیں پہلے ذیلی کمیٹی اور پھر وزیرِ منصوبہ بندی کی زیرِ صدارت قائم کمیٹی کو پیش کیا جائے گا، حتمی طور پر یہ سفارشات وزیراعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔

(جاری ہے)

دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت پانچویں اقتصادی جائزے کے مذاکرات رواں ماہ شروع ہو رہے ہیں، جس کے لیے وزارتِ خزانہ نے تمام وزارتوں کو ڈیٹا اور معاشی اصلاحات کی رپورٹس مرتب کرنے کی ہدایت کر دی ہے، مذاکرات میں توانائی کی اصلاحات، بجلی اور گیس کے شعبوں میں گردش قرضہ اور سٹرکچرل بینچ مارکس شامل ہوں گے، کامیاب جائزے کی صورت میں پاکستان کو 1 ارب ڈالر کی پانچویں قسط جاری ہوگی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر ملیں گے، یوں مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر موصول ہونے کا امکان ہے۔