سینٹرآف ایکسی لینس فارسی پیک کی چین کے کاروباری اداروں کے وفد کی میزبانی ، سی پیک فیز 2.0 کے تحت ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا

جمعہ 11 ستمبر 2026 12:41

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 ستمبر2026ء) سینٹر آف ایکسی لینس فار سی پیک نے چین کے معروف کاروباری اداروں کے وفد کی میزبانی کی جس میں سی پیک فیز 2.0 کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچہ اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق چینی کاروباری وفد کی قیادت شنگھائی پومن ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے جنرل منیجر لو گوپنگ نے کی۔

وفد نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کا دورہ کیا، وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید اور سینٹر آف ایکسی لینس فار سی پیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سید حسنات شاہ نے وفد کا استقبال کیا۔

(جاری ہے)

بات چیت کے دوران سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں معاونت کے لیے مشترکہ اقدامات کے امکانات کا جائزہ لیا۔

بات چیت میں بالخصوص سیف سٹی اور سمارٹ سٹی سلوشنز، ڈیٹا سینٹرز، ڈرون ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی کو باہمی تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر زیرغور لایا گیا۔ ملاقات میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے شہری مراکز کو مزید محفوظ، موثر اور جدید بنایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں سیف سٹی اور سمارٹ سٹی منصوبوں کے ذریعے نگرانی، ٹریفک مینجمنٹ، عوامی سہولیات اور دیگر شہری خدمات کو جدید ڈیجیٹل نظام سے مربوط کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

فریقین نے ڈیٹا سینٹرز کے شعبے میں بھی تعاون کے امکانات پر گفتگو کی اور اس شعبے میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ وفد نے ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی ممکنہ تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ جدید ڈرون ٹیکنالوجی کو مختلف معاشی، انتظامی اور ترقیاتی شعبوں میں بروئے کار لانے اور مقامی سطح پر تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

بات چیت میں انسانی وسائل کی ترقی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ فریقین نے جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کی مہارتوں میں اضافے، تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے ممکنہ تعاون پر غور کیا، تاکہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں موثر کردار ادا کرسکے۔ پائیڈکے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

ڈاکٹر سید حسنات شاہ نے وفد کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور سی پیک فیز 2.0 کے تحت ٹیکنالوجی اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مزید رابطوں اور تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وفد میں ایچ کے ایچ پرائیویٹ لمیٹڈ کی ڈائریکٹر ہاجرہ خالق کھر اور سینئر ایڈوائزر پروفیسر رفیق احمد غنچہ بھی شامل تھے۔