آپ نے عدلیہ پر حملہ کردیا‘غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا‘ سمجھا دوں گا. جسٹس سرفرازڈوگرکے ریمارکس

آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں‘کیا کنٹینرز رکھنا شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ . ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے مکالمہ اور بنچ سے سوال

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ 11 ستمبر 2026 14:56

آپ نے عدلیہ پر حملہ کردیا‘غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا‘ سمجھا دوں گا. جسٹس ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 ستمبر ۔2026 ) تحریک انصاف احتجاج کیس کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران کنٹینرز لگانے پر بھی اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی بات ہوتی ہے تو شہریوں کے آنے سے پہلے ہی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں، کیا کنٹینرز رکھنا شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ .

انہوں نے وفاقی حکومت کے خلاف نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ کے پی ہاﺅس کے باہر بھی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں.

(جاری ہے)

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ شہریوں کا وفاقی حکومت پر اعتماد ختم ہورہا ہے، انہوں نے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ دو سال سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں؟ .

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جواب دیا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے، کیسز کب لگنے ہیں یہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے، آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں؟ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کے بعض دلائل پر ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا. دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور چیف جسٹس کے درمیان بعض جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا، سمجھا دوں گا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں چیف جسٹس نے جواب دیا کہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ ہوں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ہیں درخواست گزار کے وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جج کو بادشاہ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا.