عزت و شہرت کی خواہش ریاکاری کا بڑا دروازہ ہے ، علامہ الیاس قادری

اخلاص پیدا کرنے اور حب جاہ و شہرت کی خواہش سے بچنے کی کوشش کی جائے ، امیر اہلسنت

جمعہ 11 ستمبر 2026 20:21

عزت و شہرت کی خواہش ریاکاری کا بڑا دروازہ ہے ، علامہ الیاس قادری
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 ستمبر2026ء) امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ دین کی تبلیغ و خدمت کرنے والے کو چاہئے کہ وہ حسن اخلاق، ملنساری اور ہمدردی کو اپنے کردار کا حصہ بنائے ، دین کی خدمت محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ کرنا ہوگی، تب ہی اس کے مثبت اثرات معاشرے میں نمایاں ہوں گے۔

فیضان مدینہ میں منعقدہ مدنی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے امیر اہل سنت نے کہا کہ جو افراد دین کی خدمت کے شعبے میں مصروف ہیں، انہیں مزید محنت اور لگن کے ساتھ کام کرنا چاہئے ، لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی، ان کی خبر گیری اور خیر خواہی دین کے کام میں انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے دلوں میں محبت، اپنائیت اور دین سے وابستگی پیدا ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

ریاکاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امیر اہل سنت نے کہا کہ نیک عمل اس نیت سے کرنا کہ لوگ ہمیں اچھا اور نیک سمجھیں یا ہماری تعریف کریں، ریاکاری ہے ، اسی طرح اگر کسی نیک کام کے پیچھے یہ نیت ہو کہ اس سے لوگوں سے فوائد حاصل کئے جائیں تو یہ بھی اخلاص کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص نیک عمل اخلاص کے ساتھ شروع کرے اور دوران عمل اس کے دل میں ریاکاری کی نیت پیدا ہوجائے تو اسے اتنے عمل کا ثواب ملے گا جو اس نے اخلاص کے ساتھ کیا، جبکہ ریاکاری کی نیت سے کیے گئے عمل پر ثواب کی امید نہیں کی جاسکتی، ریاکاری انسان کے دل میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ باریک انداز میں داخل ہوجاتی ہے اور بعض اوقات انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ریاکاری میں مبتلا ہوچکا ہے۔

امیر اہل سنت نے حب جاہ کے حوالے سے کہا کہ عزت، شہرت اور لوگوں کی واہ واہ کی خواہش بھی انسان کے دل میں داخل ہوجاتی ہے ، حب جاہ ریاکاری کا ایک بڑا دروازہ ہے ، جب دل میں شہرت اور اپنی تعریف کی محبت پیدا ہوجائے تو ریاکاری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی تعریف سن کر فخر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اگر لوگ اس سے متاثر ہوں تو انہیں نیکی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اپنی شہرت سے محبت انسان کو حب جاہ کی طرف لے جاسکتی ہے ، اس لئے ہر شخص کو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنے اور عزت و شہرت کی خواہش سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔