بچوں کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ حقوق اور انصاف کا معاملہ ہے، آصفہ بھٹو زرداری

ةہر بچے کو گھر، اسکول، معاشرے اور ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کا بنیادی حق حاصل ہے، خاتونِ اول

جمعہ 11 ستمبر 2026 20:55

بچوں کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ حقوق اور انصاف کا معاملہ ہے، آصفہ بھٹو ..
ٌاسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 ستمبر2026ء) خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہر بچے کو گھر، اسکول، معاشرے اور ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کا بنیادی حق حاصل ہے، بچوں کے خلاف تشدد، بدسلوکی، استحصال یا غفلت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی بچے کو نقصان پہنچنا معاشرے کی جانب سے اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کے مترادف ہے۔

دنیا بھر میں بچے اب بھی جسمانی و جنسی تشدد، انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، کم عمری کی شادی، استحصال اور آن لائن بدسلوکی جیسے سنگین خطرات کا سامنا کررہے ہیں۔خاتونِ اول نے کہا کہ اقوام متحدہ بھی متعدد مرتبہ خبردار کرچکا ہے کہ بچوں کے خلاف تشدد بڑے پیمانے پر موجود ہے، تاہم اس کی روک تھام ممکن ہے۔

(جاری ہے)

بچوں کے تحفظ کے لیے سیاسی عزم، مضبوط اداروں اور مسلسل عملی اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان میں یہ ذمہ داری فوری اور خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق حالیہ شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچپن کو درپیش خطرات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو بچوں کے لیے مواقع، تعلیم اور علم میں اضافے کا ذریعہ بننا چاہیے، اسے شکاری عناصر کے لیے بچوں تک رسائی کا وسیلہ نہیں بننے دینا چاہیے۔آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بچوں کا تحفظ کسی سانحے کے رونما ہونے کے بعد شروع نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا آغاز روک تھام سے ہونا ضروری ہے۔

باخبر والدین، محفوظ اسکول اور تربیت یافتہ اساتذہ بچوں کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔خاتونِ اول نے زور دیا کہ بچوں کے خلاف جرائم پر خاموشی، بدنامی کا خوف یا مجرم کو تحفظ فراہم کرنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔ بچوں کے تحفظ کے نظام میں روک تھام، تحقیقات، بحالی اور انصاف کے تمام مراحل کو مربوط کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

بچپن کا تحفظ خیرات نہیں بلکہ حقوق، انصاف اور اس قوم کی نوعیت کا معاملہ ہے جسے ہم مستقبل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، مذہبی و معاشرتی رہنماؤں اور میڈیا کو بچوں کا تحفظ مشترکہ قومی ذمہ داری بنانا ہوگا۔ پاکستان کے مستقبل میں اس بچے کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی بہتر سرمایہ کاری نہیں ہوسکتی جو کل اس ملک کا وارث بنے گا۔