اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 ستمبر 2026ء) یکم ستمبر کو جرمن حکومت نے لائپزگ ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش کا ذمہ دار روس کو قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کی ایک نئی فہرست کا اعلان کیا۔ ان اقدامات میں روس کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کے خلاف کریک ڈاؤن سخت کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔
شیڈو فلیٹ (Shadow Fleet)، جسے بعض اوقات ڈارک فلیٹ (Dark Fleet) بھی کہا جاتا ہے، تیل بردار جہازوں اور معاون بحری جہازوں کے ایسے نیٹ ورک کو کہا جاتا ہے، جو پابندیوں یا زیادہ خطرے والی اشیا کی نقل و حمل کے لیے گمراہ کن طریقے استعمال کرتے ہیں۔
ان جہازوں کی اصل ملکیت، سامان کے ماخذ یا منزل کو اکثر دانستہ طور پر چھپایا جاتا ہے۔ایسے جہازوں کو روکنا اتنا آسان نہیں۔
(جاری ہے)
برلن میں قائم جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی و سلامتی امور (SWP) کے بحری سلامتی کے ماہر جولیان پاوَلاک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ بین الاقوامی بحری قانون بنیادی طور پر تجارتی جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
پاوَلاک کے مطابق، ''کھلے سمندر میں ان اشیا کی نقل و حمل بذاتِ خود غیر قانونی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''پیچیدگی اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب اس شیڈو فلیٹ کے بعض حصے نام نہاد ہائبرڈ سرگرمیوں سے منسلک پائے جاتے ہیں، جن میں تخریب کاری، جاسوسی اور ممکنہ طور پر ڈرون کارروائیاں یا ان سے متعلق دیگر تخریبی سرگرمیاں شامل ہیں۔
‘‘کیا روس کی دھمکیاں محض بلف ہیں؟
یہ تاثر آسانی سے پیدا ہو سکتا ہے کہ جرمن حکومت روس کے ساتھ کشیدگی میں اضافے سے بچنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کر رہی ہے۔ اس تاثر کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مشرقی جرمن صوبے سیکسنی انہالٹ کے حالیہ انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت متبادل برائے جرمنی (AfD) نے کامیابی حاصل کی۔
اس پارٹی نے یوکرین جنگ کے باوجود جرمنی اور روس کے درمیان قریبی تعلقات کی حمایت کی تھی۔رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یورپ میں جنگ کے خدشات بھی بہت سے ووٹروں کے فیصلے پر اثرانداز ہوئے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تو جرمنی کے الزامات کو ''ایک حقیقی جنگ کا آغاز‘‘ تک قرار دیا۔
تاہم کیل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار سکیورٹی پالیسی کے ماہر یوہانس پیٹرز ایسے خدشات کو بے بنیاد سمجھتے ہیں۔
انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''دیگر یورپی ممالک نے زیادہ سخت اقدامات کیے ہیں لیکن ان خدشات اور روسی بیانات کے باوجود عملی طور پر بہت کم اقدامات کیے گئے ہیں۔‘‘یوہانس پیٹرز کے بقول، ''روس نے صورت حال کو مزید نہیں بگاڑا بلکہ بڑی حد تک محاذ آرائی سے گریز کیا ہے۔ خاص طور پر ہم نے دیکھا ہے کہ تیل سے بھرے وہ ٹینکر، جو انتہائی قیمتی ہوتے ہیں، اب سویڈن کے سمندری راستوں سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ سویڈن نے جہازوں کو روک کر ان کی تلاشی اور جانچ پڑتال کا عمل تیز کر دیا ہے۔
‘‘لائپزگ ہوائی اڈے پر حملے کی مبینہ کوشش کے بعد جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے کہا تھا، ''وفاقی حکومت ہائبرڈ حملوں کے ذمہ داروں کو اس کی قیمت چکانے پر مجبور کرے گی۔ انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘‘
پیٹرز کے مطابق، ''اگر آپ سخت لہجہ اختیار کرتے ہیں تو جلد یا بدیر آپ کو اس کی تائید عملی اقدامات سے بھی کرنا پڑتی ہے۔
چانسلر نے خود اپنی حکومت پر اس وعدے کو پورا کرنے کا دباؤ ڈال دیا ہے۔‘‘روسی مسلح عملہ بھی موجود ہو سکتا ہے
سکیورٹی ماہر پاوَلاک خبردار کرتے ہیں کہ مشتبہ روسی جہازوں کی تلاشی لینا خطرات سے خالی نہیں، ''ایسی کسی بھی کارروائی میں اس امکان کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ روسی جنگی جہاز ان کی نگرانی یا حفاظت کر رہے ہوں، یا پھر جیسا کہ حالیہ عرصے میں بڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے، ان پر روسی کرائے کے جنگجو گروہوں سے وابستہ مسلح اہلکار سوار ہوں۔
‘‘ایسٹونیا کو ان خطرات کا عملی سامنا تیل بردار جہاز ''جیگوار‘‘ کے معاملے میں کرنا پڑا تھا۔ مئی 2025 میں اس جہاز کے کپتان نے ایسٹونیا کے ساحلی پانیوں سے گزرتے ہوئے مقامی حکام کی ہدایات نظرانداز کر دیں۔ ایسٹونیا کے حکام نے مشتبہ ٹینکر کو روک کر اس کا معائنہ کرنے کی کوشش کی، تاہم روس نے ردعمل میں ایک لڑاکا طیارہ روانہ کر دیا، جس کے بعد ایسٹونیا نے کارروائی روک دی اور جہاز کو اپنی منزل کی جانب جانے کی اجازت دے دی۔
پاوَلاک کہتے ہیں، ''یہ بات اہم ہے کہ ان سرگرمیوں کے جغرافیائی تناظر کو بھی مدنظر رکھا جائے۔‘‘ ان کے مطابق، ''بحیرہ بالٹک میں روس جغرافیائی طور پر بہت قریب ہے، اس لیے اس کے پاس مختلف متبادل موجود ہیں، جن میں فوجی یونٹوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔‘‘
تاہم دور دراز علاقوں میں، مثال کے طور پر برطانیہ اور فرانس کے درمیان واقع انگلش چینل میں صورت حال مختلف ہوتی ہے۔
پاوَلاک کے بقول، ''روس اپنی شیڈو فلیٹ کے ہر جہاز کو نہ تو مسلسل تحفظ فراہم کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ حفاظتی جہاز تعینات کر سکتا ہے۔‘‘نگرانی کا عمل روس کے لیے اخراجات بڑھا سکتا ہے
بحری سلامتی کے ماہر یوہانس پیٹرز کا کہنا ہے کہ جہاں قانونی جواز موجود ہو، وہاں شیڈو فلیٹ کے خلاف کارروائی ضرور ہونا چاہیے تاہم وہ اس حوالے سے خبردار بھی کرتے ہیں۔
پیٹرز کے بقول، ''صرف نگرانی، معائنے اور تلاشی کی کارروائیوں کے ذریعے ہم شیڈو فلیٹ کے اس نظام کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ روسی شیڈو فلیٹ کے لیے خطرات اور غیر یقینی صورتحال پیدا کی جائے اور اس کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ کیا جائے۔‘‘
پیٹرز اس کی وضاحت ایک سادہ مثال سے کرتے ہیں، ''اگر روزانہ تین جہازوں کے بجائے صرف ایک جہاز ہی سفر مکمل کر سکے تو اس کا مطلب روزانہ کروڑوں یورو کے نقصان کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی سفر میں معمول سے چار دن زیادہ لگ جائیں تو اس سے بھی روس کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ اور تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی روس کی جنگی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘‘یہ آرٹیکل پہلی بار جرمن زبان میں شائع کیا گیا