لاہورہائیکورٹ کاکرایہ داری ایکٹ 2009 کے اہم قانونی نقطے پر تفصیلی فیصلہ جاری

ایکٹ کے تحت درخواست دہندہ کو حق دفاع کی اجازت جزوی طور پر دینے کی گنجائش نہیں، درخواست برائے اجازتِ حق دفاع یعنی لیو ٹو کنٹیسٹ یا تو مکمل طور پر منظور ہوگی یا مسترد کی جائے گی. عدالت کا فیصلہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات 17 ستمبر 2026 14:29

لاہورہائیکورٹ کاکرایہ داری ایکٹ 2009 کے اہم قانونی نقطے پر تفصیلی فیصلہ ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 ستمبر ۔2026 ) لاہور ہائیکورٹ نے کرایہ داری ایکٹ 2009 کے اہم قانونی نقطے پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایکٹ کے تحت درخواست دہندہ کو حق دفاع کی اجازت جزوی طور پر دینے کی گنجائش نہیں، درخواست برائے اجازتِ حق دفاع یعنی لیو ٹو کنٹیسٹ یا تو مکمل طور پر منظور ہوگی یا مسترد کی جائے گی.

(جاری ہے)

عدالت نے قرار دیا کہ لیو ٹو کنٹیسٹ مسترد ہونے کی صورت میں رینٹ ٹربیونل حتمی حکم جاری کرنے کا پابند ہے، فیصلے میں سنگل بنچ کے متضاد فیصلوں اور آرا سے پیدا ہونے والے قانونی تنازع کو بھی حل کر دیا گیاہے، عدالت نے قرار دیا کہ اسد علی خان کیس کا فیصلہ درست قانونی تشریح نہیں کرتا جبکہ محمد لیاقت علی کیس میں طے کیے گئے اصول درست ہیں. لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پگڑی کی رقم کو واجب الادا کرائے کے بقایا جات کے ساتھ منہا یا ایڈجسٹ نہیں کیا جا سکتا، تاہم کرایہ دار پگڑی کی رقم کی واپسی کے لیے الگ سے قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتا ہے، سابقہ مالکان یا دیگر افراد کو ادا کی گئی پگڑی کی رقم کی ذمہ داری نئے مالک پر عائد نہیں کی جا سکتی.

فیصلے میں مزید قرار دیا گیا کہ ملکیت کی تبدیلی پر سیکشن 30 کے تحت نوٹس نہ دینا بھی خلی و دخلی کی درخواست کو غیر موثر نہیں بناتا، عدالت نے کہا کہ کرایہ داری کی عدم موجودگی میں زبانی معاہدہ ماہانہ بنیادوں پر تصور ہوگا. عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے تحت طریقہ کار کی تکنیکی غلطیوں کی بنیاد پر مقدمات کا بلاوجہ دورانیہ نہیں بڑھایا جا سکتا، انصاف کے تقاضوں کےلئے رینٹ ٹربیونل ضابطہ دیوانی کے اصولوں سے رہنمائی لے سکتا ہے لاہور ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کی آئینی درخواستیں خارج کر دیں، جسٹس مرزا وقاص رﺅف اور جسٹس سید احسن رضا کاظمی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا.