اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 ستمبر 2026ء) بدھ کے روز مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ اور اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر مائیک والٹز کی موجودگی میں ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مراکش اور اسرائیل نے دونوں ممالک کے سفارتی مشنز کو مکمل سفارت خانوں کی سطح پر لانے اور سفیروں کا تبادلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
بیان کے مطابق دونوں ممالک کا ماننا ہے کہ ''مراکش اور اسرائیل کے درمیانمکمل سفارتی، پُرامن اور دوستانہ تعلقات کا قیام دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے‘‘ اور اس سے خطے میں امن کے فروغ کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دونوں ممالک نے مراکش اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست پروازیں ''فوری طور پر دوبارہ شروع‘‘ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
(جاری ہے)
مشترکہ بیان میں کہا گیا، ''دونوں ممالک امن اور دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے کام کرنے اور خطے اور دنیا بھر میں امن، خوشحالی اور سلامتی کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘
اسرائیل اور مراکش کے تعلقات
مراکش اور اسرائیل نے 2020 میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ''ابراہیمی معاہدوں‘‘ کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
ان معاہدوں کے ذریعے اسرائیل کے متعدد عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گئے تھے۔’ابراہیمی معاہدوں‘ پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان ہیں۔ اسرائیل نے مصر اور اردن کے ساتھ بھی الگ سے امن معاہدے کیے تھے۔
ان معاہدوں کے بعد فلسطینیوں میں طویل عرصے سے قائم اس مشترکہ عرب مؤقف کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے تھے، جس کے تحت اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، جس کے بدلے عرب ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کیے جانے کی بات کی جاتی ہے۔
نیویارک میٹنگ کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون سعار نے کہا کہ یہ ''اہم اقدامات‘‘ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا، ''اسرائیل اور مراکش کے درمیان تعلقات اہم ہیں اور دونوں اقوام کے لیے وسیع امکانات رکھتے ہیں۔ ہم اپنے امریکی دوستوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
‘‘امریکہ کا ردعمل
اقوام متحدہ
میں امریکی مشن کی جانب سے تینوں ممالک کے نام سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ان کا ماننا ہے کہ ''مراکش اور اسرائیل کے درمیان مکمل سفارتی، پُرامن اور دوستانہ تعلقات کا قیام دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے اور اس سے امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔‘‘بیانات میں سفارت خانے قائم کرنے کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا وقت نہیں بتایا گیا۔
اسرائیل اس سے قبل جون 2022 میں بھی اسی نوعیت کا اعلان کرچکا ہے، جب اس وقت کے اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپید نے مراکش کا دورہ کیا تھا۔بدھ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے یہ بھی کہا کہ سال کے اختتام تک متعدد اقتصادی معاہدے طے کیے جائیں گے۔
اسرائیلی بیان میں مزید کہا گیا کہ آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے باہمی دورے بھی ہوں گے۔
ادارت: کشور مصطفیٰ
(ڈی پی اے، اے ایف پی، ڈی پی اے)