ڈیجیٹل دنیا میں جرائم کے بدلتے طریقہ کار سے نمٹنے کا لائحہ عمل منظور

یو این اتوار 27 ستمبر 2026 02:00

ڈیجیٹل دنیا میں جرائم کے بدلتے طریقہ کار سے نمٹنے کا لائحہ عمل منظور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 27 ستمبر 2026ء) اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے جرائم کی تیزی سے بدلتی صورتوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے عالمی لائحہ عمل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پیش رفت جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف سے متعلق متحدہ عرب امارات میں ادارے کی 15ویں عالمی کانگرس میں ہوئی جہاں جرائم کے خلاف عالمی تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

ابوظہبی اعلامیہ کے نام سے یہ لائحہ عمل اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ہے۔ اس کانگرس میں دنیا بھر کی حکومتیں سائبر جرائم، دھوکا دہی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے مجرمانہ استعمال سمیت مختلف مسائل پر غور کر رہی ہیں۔

Tweet URL

اعلامیہ میں جرائم کی پیچیدہ ہوتی دنیا کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے مطابق، خدمات، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کو جرائم پیشہ عناصر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

رکن ممالک نے خود بھی ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے کا عہد کیا ہے جس میں نظام انصاف کو ڈیجیٹل بنانا اور فوجداری انصاف کے اقدامات میں مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنا شامل ہے۔

اس اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ایسے استعمال کے ساتھ ضروری حفاظتی انتظامات بھی ہونا چاہییں جن میں انسانی نگرانی، شفافیت، قانونی تقاضوں کے مطابق منصفانہ کارروائی اور معلومات کا تحفظ شامل ہیں۔

'انصاف کسی کا استحقاق نہیں'

اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کانگریس سے ویڈیو خطاب میں کہا کہ یہ اجلاس دنیا میں گہری تبدیلی کے دور میں منعقد ہو رہا ہے۔ انصاف کسی کا استحقاق نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ہر فرد کا تحفظ کرنا چاہیے، ہر شخص کے حقوق برقرار رکھنے چاہییں اور کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو پہلے ہی'وعدہ انصاف' نامی اقدام کے ذریعے ابوظہبی اعلامیہ میں شامل نکات پر عملدرآمد کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

اس رضاکارانہ اقدام کے تحت حکومتیں 2031 تک جرائم کی روک تھام اور فوجداری انصاف کے شعبے میں مخصوص اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جانے والے اقدامات کا اعلان کر رہی ہیں۔

کیوٹو سے ابوظہبی تک

کانگریس کا افتتاح کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونیکا جوما نے کہا کہ یہ اجلاس نہ صرف جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت کا جواب ہے بلکہ بین الاقوامی تعاون کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔

آج دنیا ابوظہبی میں اس عزم کی تجدید کے لیے جمع ہوئی ہے کہ قانون کی حکمرانی اور فوجداری انصاف لوگوں اور کرہ ارض کی سلامتی اور تحفظ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب کثیرالفریقی نظام پر اعتماد کمزور پڑ رہا ہے، ابوظہبی کو بین الاقوامی تعاون کی روشن مثال بننا ہو گا۔

جاپان کے شہر کیوٹو میں ہونے والی گزشتہ کانگرس کے پانچ سال بعد مونیکا جوما نے کہا کہ دنیا ایک اور اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ وہی پلیٹ فارم جو دنیا بھر کے اربوں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، جرائم پیشہ عناصر کو بھی باہم جوڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل کرنسی غیر قانونی منافع کو چھپانے کا ذریعہ بن سکتی ہے جبکہ ڈیجیٹل آلات کو دھوکہ دہی، لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کے استحصال کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

متاثرین کے تحفظ کی اہمیت

مونیکا جوما نے مندوبین پر زور دیا کہ وہ ان لوگوں پر توجہ مرکوز رکھیں جو جرائم سے کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ان میں مسلح جتھوں کے ذریعے بھرتی کیے جانے والے بچے، گھریلو یا آن لائن تشدد کا سامنا کرنے والی خواتین، قانونی معاونت حاصل نہ کر پانے والے افراد اور وہ نوجوان شامل ہیں جنہیں بہتر مستقبل کے وعدوں کے ذریعے دھوکہ دہی پر مبنی جرائم کے نیٹ ورکس میں پھنسایا جاتا ہے۔

مونیکا جوما نے ابوظہبی اعلامیہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم آغاز قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا حقیقی اثر بالآخر اس کے موثر نفاذ پر منحصر ہو گا۔

انصاف پر مرکوز ہفتہ

متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ہونے والی یہ کانگرس یکم اکتوبر تک جاری رہے گی۔ 'ڈیجیٹل دور میں لوگوں اور کرہ ارض کا تحفظ' اس کا مرکزی موضوع ہے۔ کانگرس میں 119 ممالک کے نمائندےشرکت کر رہے ہیں جبکہ 40 سے زائد وزرائے انصاف اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں۔ حکومتوں، سول سوسائٹی، علمی و تحقیقی اداروں اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 5,100 سے زیادہ مندوبین اجلاس میں شریک ہوں گے۔

منتظمین کے مطابق، یہ جرائم کے بارے میں اب تک ہونے والی پہلی کانگرس ہے جس میں نوجوانوں کی نمائندگی سب سے زیادہ ہے۔ یہ نوجوان ورکشاپس میں شریک ہو رہے ہیں، آئندہ اقدامات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ایک خصوصی یوتھ لیب اور آرٹ نمائش میں بھی شریک ہیں۔ اس سے قبل 24 اور 25 ستمبر کو نوجوانوں کے لیے ایک خصوصی فورم بھی منعقد ہوا تھا۔

'یو این او ڈی سی' کانگرس کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کر رہا ہے جو اعلامیہ پر عملدرآمد میں ضروری معاونت فراہم کرے گا۔