دہشت گردی اور دوستانہ تعلقات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جے شنکر

یو این اتوار 27 ستمبر 2026 02:00

دہشت گردی اور دوستانہ تعلقات ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جے شنکر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 27 ستمبر 2026ء) انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی تنازعات کے خاتمے، بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ، دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اور عالمی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

انڈیا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد عالمی امن و سلامتی کا قیام اور اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دینا تھا، تاہم آج بھی دنیا جنگوں اور محاذ آرائیوں سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تنازعات نہ صرف عالمی امن و سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ترقی اور خوشحالی کی رفتار کو بھی سست کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں کسی بھی خطے میں ہونے والا تنازع پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے اور ایسے ممالک بھی اس کے منفی اثرات کا شکار ہوتے ہیں جن کا ان تنازعات سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

(جاری ہے)

مشرق وسطیٰ اور یوکرین تنازعات

وزیر خارجہ جے شنکر نے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور ملاحوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی، شہریوں کے تحفظ اور توانائی و تجارت کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔

یوکرین کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے انڈیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پانچویں سال میں داخل ہونے والی جنگ عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور بحری نقل و حمل کے نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کے اس مؤقف کو دہرایا کہ "لامتناہی جنگ اب جنگ کے خاتمے کا راستہ اختیار کرے" اور کہا کہ بھارت امن کے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے (فلسطینی مسئلے کا) دو ریاستی حل ضروری ہے، جبکہ بھارت فلسطینی عوام کے لیے انسانی امدادی سرگرمیوں میں اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترقی پذیر دنیا کے مسائل

انڈیا کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ دنیا میں "ہر چیز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے" کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کے باعث مالیاتی نظام، منڈیوں تک رسائی، اشیا و خدمات کی رسد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی متاثر ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس صورتحال نے عالمی اعتماد اور خیر سگالی کو کمزور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک خصوصاً "گلوبل ساؤتھ" خوراک، ایندھن، کھاد اور مالی وسائل کے چار گنا بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ موسمیاتی عوامل، کھاد کی قلت اور اناج کی ترسیل میں رکاوٹوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی پائیدار اہداف کے حصول کی رفتار بھی دباؤ کا شکار ہے۔

وزیر خارجہ جے شنکر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تعصب میں اضافہ اور باہمی احترام میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

دہشتگردی کے خلاف سخت مؤقف

اپنی تقریر کے ایک اہم حصے میں انڈیا کے وزیر خارجہ نے دہشتگردی کو عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی اور سرحد پار دہشتگردی عالمی نظام کے لیے براہِ راست چیلنج ہے اور ایسے اقدامات میں ملوث حکومتوں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف "صفر برداشت" کی پالیسی میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے اور اس کی مالی معاونت کے ذرائع کو بے نقاب اور ان کا سدباب کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انڈیا اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتا رہے گا اور دہشتگردی اور دوستی اور خیر سگالی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

انڈیا اور کثیرالفریقیت

وزیر خارجہ جے شنکر نے انڈیا کی اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل عوامی ڈھانچے اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کے 78 ممالک میں 600 بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں بنیادی ڈھانچہ، زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔

انہوں نے قدرتی آفات، وباؤں اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں بھارتی امدادی سرگرمیوں اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں بھارت کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق بھارتی دستے اس وقت اقوامِ متحدہ کے 11 میں سے 9 امن مشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر جے شنکر نے کہا کہ دنیا تیزی سے ایک ملٹی پولر نظام کی جانب بڑھ رہی ہے اور بدلتے ہوئے عالمی حقائق کے مطابق بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی فیصلوں کے عمل میں انسانیت کے بڑے حصوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اسی لیے اصلاح شدہ کثیرالفریقی نظام کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے مہاتما گاندھی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی تقریر کا اختتام اس پیغام پر کیا کہ امن تک پہنچنے کا راستہ امن ہی ہے۔

انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کی مکمل تقریر سنیے