بین الاقوامی قانون پر مبنی ورلڈ آرڈر بچانا ضروری، چینی نائب صدر

یو این اتوار 27 ستمبر 2026 00:45

بین الاقوامی قانون پر مبنی ورلڈ آرڈر بچانا ضروری، چینی نائب صدر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 27 ستمبر 2026ء) چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی نظام کا دفاع کرے۔ بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تنازعات، ترقی کے درمیان وسیع ہوتا فرق اور عالمی سطح پر درپیش سنگین مسائل نے کثیرالفریقی تعاون کو پہلے سے کہیں زیادہ ضروری بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا جنگ نہیں، امن چاہتی ہے۔ تنازعات کو یکطرفہ عسکری اقدامات کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے گرد تشکیل پانے والے بین الاقوامی نظام اور ایسے عالمی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ضروری ہےجس کی بنیاد بین الاقوامی قانون پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی اور سلامتی کونسل کی منظوری کو نظرانداز کرنے جیسا طرزعمل نقصان دہ ہے۔

(جاری ہے)

طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ بڑی طاقتوں پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ یقینی بنائیں۔

خودمختاری کے احترام کا مطالبہ

ہان ژینگ نے مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے غزہ کی تعمیرنو کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل فلسطینیوں کی جانب سے فلسطین کی حکمرانی کے اصول کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ دو ریاستی حل کی طرف واپسی بھی ضروری ہے۔

یوکرین کے معاملے پر انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ چار نکات کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ بحران کے سیاسی حل کے لیے چین کے تعمیری کردار کی رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کیوبا کے خلاف امریکہ کی ناکہ بندی اور پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔

متوازن اور جامع عالمی شراکت

نائب صدر نے ترقی کے معاملے میں ایسی عالمی شراکت داری پر زور دیا جو اتحاد اور مساوات کی بنیاد پر قائم ہونے کے ساتھ متوازن اور جامع بھی ہو۔

غربت میں کمی لانے، غذائی تحفظ اور توانائی کی قابل تجدید ذرائع کی جانب منتقلی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک کو غریب ممالک کی موسمیاتی مالی معاونت سے متعلق اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔

مصنوعی ذہانت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہان ژینگ نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی میں انسان کو بنیادی اہمیت دی جانا چاہیے اور مصنوعی ذہانت کو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لیے فروغ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے ڈیجیٹل تقسیم میں کمی لانے اور ایسی ترقی کو فروغ دینے پر زور دیا جس کے ثمرات پوری دنیا تک پہنچ سکیں۔ علاوہ ازیں، انہوں نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے گرد قائم عالمی تجارتی نظام کے دفاع پر بھی زور دیا۔

ترقی پذیر دنیا کی آواز

ہان ژینگ کا کہنا تھا کہ چین اقوام متحدہ میں اصلاحات کی حمایت کرتا ہے، تاہم وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ یہ اصلاحات اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کے اختیارات کو کم کرنے کے بجائے انہیں مزید مضبوط بنائیں۔

انہوں نے جنوبی دنیا کے ممالک کی آواز کو زیادہ موثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

نائب صدر نے اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ چین چاہتا ہے کہ ان کا جانشین اقوام متحدہ کے منشور کا احترام کرے، غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ہو، دیانت داری اور انصاف پسندی کو برقرار رکھے اور حوصلے و لگن کا مظاہرہ کرے۔

یو این میں چین کا کردار

ہان ژینگ نے جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کی منظوری کو 55 سال مکمل ہونے کا ذکر بھی کیا جس کے ذریعے اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو چین کی واحد قانونی نمائندہ حکومت تسلیم کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد چین نے اتار چڑھاؤ کے ادوار میں استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔

بڑی طاقتوں میں امن و سلامتی کے حوالے سے چین کا ریکارڈ سب سے نمایاں ہے جبکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں چین نے اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں کے لیے سب سے زیادہ اہلکار اور وسائل فراہم کیے ہیں۔

ہان ژینگ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں چین نے عالمی اقتصادی ترقی میں تقریباً 30 فیصد حصہ ڈالا ہے، جبکہ بین الاقوامی ترقیاتی اقدام کے تحت 23 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم کا انتظام کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے لیے چین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کثیرالفریقی تعاون وہ انتخاب ہے جو انسانیت نے مصائب سے گزرنے کے بعد کیا ہے جبکہ انصاف اور مساوات دنیا بھر کے عوام کی مشترکہ خواہش ہیں۔

چین کے نائب صدر ہان ژینگ کا مکمل خطاب سنیے