میڈیا کو احکامات جاری ہوئے ہیں کہ پی ٹی آئی کے آزاد ایم پی ایز یا ایم این ایز کے ساتھ پی ٹی آئی نہ لکھا جائے

آزاد منتخب ارکان اسمبلی کے نام کے ساتھ صرف آزاد لکھا جائے، یہ احکامات بھی جاری ہوئے کہ شفیع اللہ جان اور شاہد خٹک کو ٹی وی پر نہ لیا جاسکتا، یہ احکامات پیمرا کے نہیں کہیں اور سے آئے ہیں، صحافی شہزاد اقبال

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ 26 ستمبر 2026 22:44

میڈیا کو احکامات جاری ہوئے ہیں کہ پی ٹی آئی کے آزاد ایم پی ایز یا ایم ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 26 ستمبر 2026ء ) صحافی شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ میڈیا کو احکامات جاری ہوئے ہیں کہ پی ٹی آئی کے آزاد ایم پی ایز یا ایم این ایز کے ساتھ پی ٹی آئی نہ لکھا جائے، آزاد منتخب ارکان اسمبلی کے نام کے ساتھ آزاد لکھا جائے گا۔ اپنے وی لاگ میں سینئر صحافی شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کا معاملہ اگر حل ہوبھی جاتا ہے، تب بھی مقتدرہ فیصلہ کرچکی ہے، جیسا کہ حکومت کے پاس ایک آپشن گورنرراج کا ہے، اگر حکومت گورنر راج لگائے گی تو کیا گورنر راج لگانا آسان ہے؟ گورنر راج بھی 2 ماہ پھر 6ماہ تک توسیع دی جاسکتی ہے۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ 9مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملہ ہوا، وہاں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، کہا جارہا ہے کہ اس میں سہیل آفریدی بھی تھے اور ان پر دہشتگردی کا پرچہ بھی ہے۔

(جاری ہے)

اس کیس میں ان کو سزا دے کر نااہل کیا جائے گا اور ان کی جگہ کوئی اور وزیراعلیٰ آجائے گا۔اس سے پہلے علی امین خود استعفا دے کر گئے تھے ، اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ دوتہائی اکثریت ہے وہاں کوئی اور وزیراعلیٰ آجائے گا۔

اور جو بھی وزیراعلیٰ آئے گا اس کو عمران خان کے احکامات ماننے ہوں گے۔اگر کوئی وزیراعلیٰ نرمی دکھائے گا تو ورکر اس کو نہیں بیٹھنے دیں گے۔ مقتدرہ فیصلہ کر چکی ہے کہ سی ایم سہیل آفریدی کو جانا ہوگا۔ لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں، اور نہ ہی یہ قدم کوئی فوری فائدہ دے گا۔ بلکہ اگر یہ تبدیلی کسی طرح عمل میں آ بھی گئی تو اس کے نتیجے میں اس سے کہیں بڑے سیاسی اور انتظامی نقصانات کا خطرہ موجود ہے۔

شہزاد اقبال نے مزید بتایا کہ ابھی میڈیا کو نئے احکامات جاری ہوئے ہیں، جیسا کہ شفیع اللہ جان اور شاہد خٹک کو ٹی وی پہ نہیں لیا جاسکتا، ان پر پابندی کی کوئی وجہ نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ ان لوگوں نے مریم نوازشریف کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے اور پیمرا نے ان پر پابندی لگا دی۔ لیکن یہ احکامات پیمرا کی طرف سے نہیں کہیں اور سے آئے کہ یہ لوگ ٹی وی پر نہیں آئیں گے، دوسرا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی جو آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے آپ ان کو پی ٹی آئی کا ایم پی اے یا ایم این اے نہیں لکھ سکتے بلکہ ان کو آزاد لکھا جائے گا۔