ایس سی او رکن ممالک کے کوآرڈینیٹرز کے وفد کا پاکستان کی 2027ء میں ایس سی او کی آئندہ سرگرمیوں کی میزبانی کے سلسلے میں جاری تیاریوں کے تحت پی این سی اے کا دورہ

منگل 29 ستمبر 2026 19:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 ستمبر2026ء) شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے کوآرڈینیٹرز کے ایک وفد نے پاکستان کی 2027ء میں ایس سی او کی آئندہ سرگرمیوں کی میزبانی کے سلسلے میں جاری تیاریوں کے تحت پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد کا دورہ کیا۔ منگل کو ترجمان پی این سی اے کے مطابق سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔

انہوں نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے، فنون لطیفہ کی روایات اور باہمی افہام و تفہیم اور علاقائی تعاون کے فروغ میں ثقافت کے کردار پر بریفنگ دی۔دورے کے دوران وفد نے پی این سی اے کی مختلف آرٹ گیلریوں کا دورہ کیا جن میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے حوالے سے منعقدہ تصویری نمائش اور معروف صادقین گیلری بھی شامل تھی جہاں پاکستان کے نامور مصور صادقین کے شاندار فنی ورثے کو اجاگر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

وفد نے پاکستان کے متنوع اور رنگا رنگ فنون لطیفہ کی عکاسی کرنے والے ثقافتی پروگرام بھی دیکھے۔ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے محمد ایوب جمالی نے وفد کو کونسل کے دائرہ کار، پاکستان کے بصری اور ثقافتی فنون کے فروغ و تحفظ میں اس کے کردار اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا۔سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے ایس سی او رکن ممالک کے درمیان تعلقات کے استحکام میں ثقافتی سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پیشکش کی کہ آئندہ ایس سی او سرگرمیوں کے دوران رکن ممالک کو اپنے فن، ثقافت اور روایتی ورثے کو ثقافتی سٹالز اور نمائشوں کے ذریعے اجاگر کرنے کے لیے پی این سی اے کے احاطے کو پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔

دورے کے موقع پر اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ ثقافتی تعاون علاقائی سفارت کاری کا ایک اہم جزو ہے جبکہ یہ دورہ بین الثقافتی مکالمے، عوامی روابط اور ایس سی او رکن ممالک کی متنوع ثقافتی شناختوں کے باہمی احترام و پذیرائی کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا بھی عکاس ہے۔ایسی سرگرمیوں کے ذریعے پی این سی اے ثقافتی سفارت کاری کے ایک متحرک مرکز کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے جہاں مختلف ممالک کو اپنے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے، فنی تجربات کے تبادلے اور باہمی دوستی و تعاون کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔