محکمہ زراعت نے دھان کی کٹائی کے دوران احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری کر دیں

بدھ 30 ستمبر 2026 17:55

سیالکوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 ستمبر2026ء) محکمہ زراعت (توسیع ) سیالکوٹ نے دھان کی کٹائی و پھنڈائی کے دوران احتیاطی تدابیر بارے سفارشات جاری کر دیں۔بدھ کو یہاں جاری اپنے ایک بیان میں ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کہا کہ کاشتکاروں کو فصل کی کٹائی اس وقت کرنی چاہئے جب سٹہ کے اوپر والے دانے رنگ بدل چکے ہوں اور نیچے والے چند دانے (دو یا تین) ابھی ہرے ہوں لیکن بھر چکے ہوں۔

اس وقت دانوں میں نمی تقریباً 22 فیصد ہوتی ہے اور سٹے کے اوپر والے دانے صاف، شفاف اورمضبوط جبکہ 90 سے 95فی صد دانے خشک پرالی کے رنگ کی طرح کے ہو چکے ہوتے ہیں اس وقت کٹائی کرنے سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے علاوہ ازیںعمدہ چھڑائی کے علاوہ جو صفات اچھے چاول میں پائی جانی چاہئیں وہ بھی موجود ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)

فصل کے پکنے کے بعد زیادہ دن تک فصل کھڑی رکھنے سے دانے جھڑنے شروع ہو جاتے ہیں اور اس طرح پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

پھنڈائی کے وقت ترپال یا بڑی چادریں بچھا لینی چاہئیں تاکہ دانے مٹی میں مل کر ضائع نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ دھان کی فصل اتنی ہی کاٹنی چاہئے جس کی اس دن پھنڈائی ہو سکے۔ دانوں کے ڈھیر کو رات کے وقت ترپال یا پرالی سے ڈھانپ دیں اوربعد ازاںدانوں کو جلد ہی منڈی پہنچا دینا چاہئے۔ اگر کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو دن کے وقت ڈھیر کو کھول کر ہوا لگا لینی چاہئے بصورت دیگر دانوں میں نمی کی وجہ سے گرمی پیدا ہو کر ان سے بُو آنے لگے گی اور دانوں کا رنگ بھی متاثر ہوگاجس سے منڈی میں دام اچھے نہیں ملیں گے۔

دھان کی فصل کی تقربیاً 10 سے 15 فیصد رقبہ کی کٹائی مزدوروں سے کروائی جاتی ہے اورکاشتکار کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ فصل کو کاٹ کر رکھ لیا جائے تاکہ اکھٹی پھنڈائی کی جاسکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کٹائی کے بعد جتنی جلدی پھنڈائی کر لی جائے، چھڑائی میں اتناہی زیادہ ثابت چاول اور ٹوٹا کم حاصل ہوگا۔رات کے وقت دانوں کوترپال یا پرالی سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ دانے اوس کی نمی سے محفوظ رہیں۔

پھنڈائی کے دوران احتیاط نہ کرنے سے بہت سے دانے ضائع ہوجاتے ہیں لہذا پھنڈائی کے عمل میں احتیاط بہت ضروری ہے۔اگر کسی وجہ سے دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو جائے اور دانوں میں نمی کی سطح 18 فیصد سے کم ہو جائے تو اس صورت میں مشینی کٹائی سے اجتناب کریں ۔دھان کی ایک قسم کی کٹائی کے بعد اور دوسری قسم کی کٹائی سے پہلے مشین کی مکمل صفائی کریں تاکہ مختلف اقسام کی ملاوٹ نہ ہو ۔

عمدہ کوالٹی کا چاول حاصل کرنے کے لئے پھنڈائی کے فوراً بعد مونجی کو مناسب طریقہ اور احتیاط سے خشک کرنا بہت ضروری ہے۔ کٹائی کے وقت مونجی میں نمی کا تناسب تقریباً 20 سے 22 فیصد تک ہوتا ہے جس کی وجہسے ذخیرہ کے دوران پھپھوندی لگ جانے سے چاول کا رنگ بدل سکتا ہے۔ کسی بھی حالت میں سکھائی کے عمل کے دوران چاول کا در جہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ سے نہیں بڑھنا چاہیے۔ مناسب درجہ حررات 40سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ مونجی کو آہستہ اور وقفوں سے خشک کریں اور ایک وقفہ سے دوسرے وقفہ کادورانیہ 12 گھنٹوں سے کم نہیں ہوناچاہیے۔ مونجی کو کم از کم12 گھنٹوں کے لیے کھلاچھوڑ دیں چاہیے تاکہ چاول کے دانوں میں نمی کی مقدار یکساں ہو جائے۔

متعلقہ عنوان :