Live Updates

پاکستانی سی فوڈ برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

جمعرات 10 ستمبر 2026 12:08

پاکستانی سی فوڈ برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 ستمبر2026ء) پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور سمندری خوراک کی برآمدات مالی سال 2025-26 میں پہلی بار 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے ملکی معیشت، روزگار اور سمندری وسائل سے استفادے کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔وزارتِ بحری امور کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران پاکستانی سمندری خوراک کی برآمدات میں 38 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مالی سال 2023-24 میں سی فوڈ برآمدات 406 ملین ڈالر تھیں جو بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 568 ملین ڈالر ہوگئیں۔اعداد و شمار کے مطابق منجمد مچھلی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری خوراک رہی، جس سے 105 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ منجمد اسکویڈ، کٹل فش، فش میل، جھینگے اور کیکڑے بھی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل رہے۔وزارتِ بحری امور کے مطابق پاکستانی سمندری خوراک جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے۔

برآمدی معیار میں بہتری، خوراک کے تحفظ کے اصولوں پر عملدرآمد اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی نے برآمدات میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستانی سمندری خوراک کی یورپی منڈی میں بھی دوبارہ رسائی اور اعتماد بحال ہونے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے 2007ء میں عائد پابندی کے بعد پاکستانی سی فوڈ مصنوعات عالمی معیار پر توجہ کے باعث دوبارہ یورپی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر سمندری خوراک کی ویلیو ایڈیشن، معیار، پیکیجنگ اور برآمدی سہولتوں پر مزید توجہ دی جائے تو پاکستان اس شعبے کی برآمدات کو 3 ارب ڈالر تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سمندری خوراک کی برآمدات میں مسلسل اضافہ نہ صرف زرمبادلہ کے حصول میں معاون ثابت ہورہا ہے بلکہ ماہی گیری، سمندری خوراک کی تیاری، ترسیل اور متعلقہ صنعتوں سے وابستہ لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات