اسلامی یونیورسٹی میں فیکلٹی ممبران کے لئے ’’خیال سے فنڈنگ تک: مسابقتی تحقیقی تجاویز کی تیاری‘‘ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

بدھ 30 ستمبر 2026 18:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 ستمبر2026ء) بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے دفتر برائے تحقیق، اختراع و تجارتی فروغ کے زیر اہتمام فیکلٹی ممبران کے لئے ’’خیال سے فنڈنگ تک: مسابقتی تحقیقی تجاویز کی تیاری‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار میں فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز، فیکلٹی آف سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف ایجوکیشن کے اساتذہ نے شرکت کی۔

سیمینار کا مقصد تحقیقی تجاویز کی تیاری، تحقیقی فنڈنگ کے مواقع، تحقیقی خلا ءکی نشاندہی اور مسابقتی تحقیقی تجاویز تحریر کرنے کے حوالے سے فیکلٹی ممبران کی استعداد کار میں اضافہ کرنا تھا۔ سیمینار میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قومی تحقیقی پروگرام اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے راستہ پروگرام کے تحقیقی مواقع کے تناظر میں تحقیقی موضوعات کو قومی ترجیحات، جائزہ لینے والوں کی توقعات اور عملی اثرات سے ہم آہنگ کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

(جاری ہے)

محکمہ نفسیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نازیہ اقبال اور محکمہ ٹیچر ایجوکیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ اجمل نے بطور ماہرین اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر نازیہ اقبال نے قابلِ فنڈنگ تحقیقی تجاویز کی خصوصیات، تحقیق کی اہمیت، قابلِ عمل ہونے، طریقہ کار سے مطابقت اور عملی اثرات کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ ڈاکٹر فوزیہ اجمل نے وسیع تحقیقی موضوعات کو مرکوز تحقیقی مسائل میں تبدیل کرنے، بامعنی تحقیقی خلا کی نشاندہی اور مؤثر تحقیقی تجویز کی تشکیل کے عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

سیمینار میں تحقیق کے دوران مصنوعی ذہانت کے آلات کے ذمہ دارانہ استعمال پر بھی گفتگو ہوئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز تحقیقی خیالات کو بہتر بنانے، متعلقہ لٹریچر کے جائزے، ذرائع کے تقابلی مطالعے اور شواہد کی درجہ بندی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں تاہم معیاری تحقیق کے لئے علمی بصیرت، تصدیق اور تحقیقی اخلاقیات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

سیمینار کے انتظامات دفتر برائے تحقیق، اختراع و تجارتی فروغ کے ڈپٹی ڈائریکٹر شفیق احمد نے کئے۔ دفتر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راشد فاروق نے ماہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فیکلٹی ممبران کی شرکت کو سراہا اور تحقیقی معاونت کے لئے دفتر کی جاری سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیکلٹی ممبران ان سرگرمیوں سے استفادہ کرتے ہوئے آئندہ تحقیقی فنڈنگ کے مواقع کے لئے مسابقتی تحقیقی منصوبے تیار کرکے جمع کرائیں گے۔