شہید بینظیربھٹو یونیورسٹی میں بچوں کے ادب، تخلیق، تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے موضوع پر کانفرنس

جمعرات 1 اکتوبر 2026 19:04

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 اکتوبر2026ء) شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید بینظیرآباد کے شعبہ سندھی زبان و ادب کے زیرِ اہتمام سندھ کی جامعات کی تاریخ میں پہلی بار ”بچوں کے ادب میں تخلیق، تحقیق اور مصنوعی ذہانت“ کے عنوان سے ایک روزہ علمی کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ نے کی۔

کانفرنس میں سندھ کے نامور ادیبوں، شاعروں اور محققین ایاز گل، ڈاکٹر ادل سومرو، مختیار ملک، ڈاکٹر شیر مہراوی، یاسر قاضی، وفا مولا بخش، امر اقبال، سعید سمیجو، قربان منگی، خالد آزاد وگھيو، ڈاکٹر امیر علی شاہ، ڈاکٹر پھلو سندر میگھواڑ، ڈاکٹر خالد ساحل کیریو، ڈاکٹر سکندر ساگر اور دیگر نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

صدارتی خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ نے کہا کہ بچوں کا ادب کسی بھی معاشرے کی فکری، علمی اور اخلاقی تربیت کی بنیاد ہے۔

بچوں کے لیے لکھا جانے والا معیاری ادب ان کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی زبان، ثقافت، تاریخ اور سماجی اقدار سے بھی جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھی زبان میں بچوں کے ادب کی تخلیق اور تحقیق کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم، تحقیق اور ادب کے میدان میں نئے مواقع فراہم کر رہی ہے، جس کی مدد سے بچوں کے لیے جدید تعلیمی اور تخلیقی مواد تیار کرنے اور زبان سیکھنے کے عمل کو آسان بنانے میں مدد لی جا سکتی ہے تاہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران انسانی فکر، تخلیقی صلاحیت اور زبان کی اصل روح کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

نامور شاعر ایاز گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ادب لکھنا ایک حساس اور ذمہ داری کا کام ہے، کیونکہ بچوں کی سوچ، تخیل اور خوابوں کی تشکیل میں ادب کا اہم کردار ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی عمر، نفسیات اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سادہ، دلچسپ اور تخلیقی زبان میں ادب تخلیق کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر ادل سومرو نے کہا کہ سندھی بچوں کے ادب کی تاریخ، روایات اور موجودہ صورتحال پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے، معیاری کتابوں کی فراہمی اور نئے لکھاریوں کی تربیت کے ذریعے سندھی بچوں کے ادب کو نئی سمتیں دی جا سکتی ہیں۔ نامور ادیب اور ریڈیو براڈکاسٹر مختیار ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کے ادب کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اس کی تحقیق اور تنقید بھی ضروری ہے۔ بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی ضروریات کو سمجھے بغیر معیاری ادب تخلیق کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے لکھاریوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کی روزمرہ زندگی، سماجی ماحول اور جدید دور کی تبدیلیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنائیں جبکہ ڈاکٹر شیر مہراوی، یاسر قاضی، وفا مولا بخش، امر اقبال، سعید سمیجو، قربان منگی، خالد آزاد وگھيو، ڈاکٹر امیر علی شاہ، ڈاکٹر پھلو سندر میگھواڑ، ڈاکٹر خالد ساحل کیریو، ڈاکٹر سکندر ساگر اور دیگر نے اپنے مقالات اور خطابات میں بچوں کے ادب کے تخلیقی، تحقیقی اور فنی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

مقررین نے کہا کہ بچوں کی کتابوں میں سندھ کی تاریخ، لوک ادب، ثقافت، سائنس اور ماحولیاتی شعور جیسے موضوعات کو دلچسپ انداز میں شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ بچوں میں علمی تجسس، محبت، ہمدردی، سچائی اور انسان دوستی کے جذبات پروان چڑھ سکیں۔ مقررین نے مصنوعی ذہانت کو ادب اور تعلیم میں ایک معاون ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے لکھاری کے ذاتی مشاہدے، احساس، تخیل اور تخلیقی تجربے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ سندھی زبان میں ڈیجیٹل مواد کی تیاری، معیاری کتابوں کی اشاعت اور تعلیمی اداروں، جامعات، لکھاریوں اور ناشرین کے درمیان تعاون کو بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ کانفرنس میں شریک ادیبوں، شاعروں اور محققین نے بچوں کے ادب کے فروغ، تحقیق کی حوصلہ افزائی اور جدید ٹیکنالوجی کے بامقصد استعمال کے لیے ایسی علمی سرگرمیوں کے تسلسل کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ کانفرنس نے سندھی زبان میں بچوں کے لیے معیاری ادب کی تخلیق اور نئے تخلیقی رجحانات کے حوالے سے علمی و فکری تبادلے کا اہم موقع فراہم کیا۔