آئین میں آپشن موجود، صدر اوروزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگا دیں گے. فیصل کنڈی

اگر اسمبلی تحلیل کی گئی تو آئینی اور قانونی طریقے سے پوزیشن دیکھیں گے،کے پی اسمبلی میں اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں. گورنرکی گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم پیر 5 اکتوبر 2026 14:35

آئین میں آپشن موجود، صدر اوروزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے خیبر پختونخوا ..
پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اکتوبر ۔2026 ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کاہے کہ صدر اور وزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے کے پی میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگا دیں گے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا آپشن آئین میں موجود ہے صدر اور وزیراعظم جب بہتر سمجھیں گے ان آپشن کا استعمال کرتے ہوئے کے پی میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگا دیں گے.

گورنر کے پی نے کہا کہ اگر گورنر راج یا ایمرجنسی بہت بری چیز ہوتی تو آئین میں نہ ہوتی اور اسے بھی آئین سے 58 ٹو بی کی طرح ختم کر دیا جاتا گورنر راج یا ایمرجنسی تباہی سے بچانے کےلئے آخری حربہ ہوتا ہے. فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اسمبلی تحلیل کرنا حکومت کا کام ہے، جب ہوگی تب دیکھا جائے گا اگر اسمبلی تحلیل کی گئی تو آئینی اور قانونی طریقے سے پوزیشن دیکھیں گے انہوں نے کہا کہ ہماری اسمبلی تحلیل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے، جن کی اسمبلی تحلیل کرنے کی خواہش ہے انہیں سوچنا چاہیے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسمبلی تحلیل ہوتی ہے تو دوبارہ انتخابات ہوں گے، ہر معاملہ آئینی اور قانونی طریقے سے ہونا چاہیے.

گورنر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس وقت کے پی اسمبلی میں اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں اسمبلی میں حکومتی اراکین 91 جب کہ اپوزیشن کے 52 ہیں، اور دونوں میں کافی فرق ہے. فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بننے تک عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جا سکتی اور مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ صورتحال میں وزیر اعلی تبدیل ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ڈائیلاگ کر لیں، ان (پی ٹی آئی) کا پروگرام صرف ٹائم پاس کرنا تھا یہ دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں، انہیں آنکھیں نہیں دکھا سکتے امن و امان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے�

(جاری ہے)

� اس حوالے سے وزیر داخلہ سے تفصیلی گفتگو بھی ہوئی ہے.