پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو قیام امن کیلئے سب سے زیادہ اخراجات کر رہا ہے، ناصر خان جنجوعہ

بلوچستان میں جھنڈے جلانے سے جھنڈے لہرانے تک کا سفر طے کر چکے ،نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ کے نتیجے میں خطے کو دہشت گردی کی لعنت سے صاف کیا جا چکا ،ضرب عضب اور ردالفساد میں پوری قوم شامل ہے ،فاٹا میں اب کوئی دہشت گرد موجود نہیں ہے، بلوچستان میں قیام امن کیلئے محرومیوں کا خاتمہ ضروری ہے جس سے وہ منفی سوچ کی جانب راغب ہوتے ہیں،قومی تشخص کو اجاگر کرنا، منفی رجحانات رکھنے والوں کو سمجھاناہم سب کا فرض ہے ،لڑائی کے بغیر بلوچیوں کو پیار و محبت سے قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے، پاکستانی دانشمند عوام ہیں ،مستقبل کے لئے اپنی درست قیادت کا انتخاب کریں گے، مشیر قومی سلامتی کا کانفرنس سے خطاب

پیر اپریل 18:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء) وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو قیام امن کیلئے سب سے زیادہ اخراجات کر رہا ہے، نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف جاری مسلسل جنگ کے نتیجے میں خطے کو دہشت گردی کی لعنت سے صاف کیا جا چکا ہے،ضرب عضب اور ردالفساد میں پوری قوم شامل ہے ،فاٹا میں اب کوئی دہشت گرد موجود نہیں ہے، بلوچستان میں قیام امن کیلئے محرومیوں کا خاتمہ ضروری ہے جس سے وہ منفی سوچ کی جانب راغب ہوتے ہیں،قومی تشخص کو اجاگر کرنا، منفی رجحانات رکھنے والوں کو سمجھاناہم سب کا فرض ہے ،لڑائی کے بغیر بلوچیوں کو پیار و محبت سے قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے، بلوچستان میں جھنڈے جلانے سے جھنڈے لہرانے تک کا سفر طے کر چکے ہیں،پاکستانی دانشمند عوام ہیں ،مستقبل کے لئے اپنی درست قیادت کا انتخاب کریں گے۔

(جاری ہے)

مشیر سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ نے یہ بات پیر کو ’پاکستان سرمایہ کاری کیلئے جنت‘ کے موضوع پر دوسری گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا تصور انتہائی مثبت ہے اور پاکستان نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ ہر شعبہ میں سرمایہ کاری کے لئے جنت کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں امن کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو امن و امان کے قیام کے لئے سب سے زیادہ اخراجات کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی امن و استحکام کے لئے 1979ء سے مصروف عمل ہے اور پاکستان کی کاوشوں سے افغانستان میں نمائندہ حکومت قائم ہوئی۔ جرمنی متحد ہوا اور دنیا کے نقشے پر 15 آزاد ممالک ظاہر ہوئے۔ ناصر خان جنجوعہ نے مزید کہا کہ نائن الیون کے بعد سے پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی کے لئے دوبارہ کلیدی کردار ادا کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خصوصیات سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے اس کے جغرافیائی محل وقوع کو دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی 60 فیصد آبادی ایشیاء میں مقیم ہے جبکہ اس کے نزدیکی علاقہ افریقہ کی آبادی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جس کے بعد یورپ، سائوتھ و نارتھ امریکہ اور آسٹریلیا آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی آبادی کے پیش نظر ہماری اہمیت مزید بڑھی ہے اور ایشیاء وہ ریجن ہے جس میں دنیا کی 60 فیصد آبادی مقیم ہے جہاں پر بہترین انسانی وسائل، صارف مارکیٹ، قدرتی وسائل، معدنیات کے علاوہ ہر طرح کے وسائل کی بہتات ہے۔

اسی لئے دنیا یہی ہے اور دنیا کی مستقبل بھی ایشیاء میں ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی رابطوں کے فروغ کے لئے ایشیاء مستقبل میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور بحرہند دنیا کے راستوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایشیاء اور یورپ کی آبادی کو ملایا جائے تو یہ دنیا کی مجموعی آبادی کے 70 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ ایشیاء، یوریشیا اور افریقہ ہی دنیا کے رابطوں کو بڑھا سکتے ہیں اور دنیا کی 85.9 فیصد آبادی ان خطوں میں مقیم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے ان حصوں کو صرف پاکستان ملاتا ہے اور پاکستان سے کسی بھی ملک تک باآسانی رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے زیادہ نعمتوں کا حامل اور کوئی ملک نہیں ہے۔ یہ ایک خوبصورت ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان ایک عام ملک نہیں ہے کیونکہ یہاں پر درجہ حرارت منفی 15 سے 50 سینٹی گریڈ سے زائد تک ہوتا ہے۔

یہ ایسا ملک ہے جہاں کے عوام محنتی، قابل اور بہادر ہیں۔ ملک میں پائی جانے والی معدنیات کی مالیت کا تخمینہ کھربوں ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشیر قومی سلامتی کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ میں قومی و بین الاقوامی برادری کو ملک کی سلامتی اور امن و امان کے حوالے سے بتائوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فاٹا، بلوچستان اور کراچی میں مسائل درپیش ہیں کیونکہ خطے اور بین الاقوامی رابطوں کے لئے یہ مقامات انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان یا کراچی میں امن و امان متاثر ہوتا ہے تو ہمارے رابطے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں 17 ایجنسیاں ہیں جہاں پر دہشت گردوں کی موجودگی تھی اور نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے خلاف جاری مسلسل جنگ کے نتیجے میں خطے کو دہشت گردی کی لعنت سے صاف کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرب عضب اور ردالفساد میں پوری قوم شامل ہے اور فاٹا میں اب کوئی دہشت گرد موجود نہیں ہے۔

ہم ان کے لئے مسلسل لڑ رہے ہیں اور ہمارے بچوں نے بھی اس حوالے سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ہمارا معاشی مرکز ہے جہاں پر زندگی متاثر تھی۔ حکومت، عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مل کر کراچی میں امن و امان قائم کیا اور زندگی معمول پر آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بلوچستان میں تعینات رہا ہوں اور بلوچستان ہمارے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو مجموعی رقبے کے 44 فیصد پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کے لئے کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قیام امن کے لئے محرومیوں کا خاتمہ ضروری ہے اور مقامی لوگوں کے احساس محرومی کو ختم کرنا ہے جس کی وجہ سے وہ منفی سوچ کی جانب راغب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبے سے منفی رجحانات کو ختم کر رہے ہیں جس کے لئے ہمیں بنیادی مسائل کے خاتمے پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم قومی تشخص کو اجاگر کریں اور منفی رجحانات رکھنے والوں کو سمجھائیں۔ یہی وہ حکمت عملی ہے جس سے بلوچستان میں دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیار سے لوگوں کو راہ راست پر لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبت رب کا شیوہ ہے جس پر دنیا قائم ہے اور لڑائی کے بغیر بلوچیوں کو پیار و محبت سے قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے، صوبے میں جھنڈے جلانے سے جھنڈے لہرانے تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر نے مزید کہا کہ حکومت کے اقدامات سے دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ بنیادی کامیابیاں ملی ہیں اور ملک کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطہ مستقبل کی دنیا اور معیشت ہے، برج اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) سے یہ خطہ دنیا کا مستقبل بنے گا اور پاکستان دنیا کے رابطوں کا اہم مرکز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مستقبل کی دنیا کا مستقبل ہے اور دنیا کو ہماری صلاحیتوں کا درست اندازہ نہیں ہے۔

یہ دنیا کا بہترین خطہ بھی بنے گا اور پاکستان ایک بہترین ملک بن کر سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود قدرتی وسائل اور معدنیات دنیا کی مستقبل کی ضروریات پوری کریں گے۔ پاکستان ایک عام ملک نہیں ہے اس کو مزید کام کرنا ہے اور سی پیک کے باعث اس کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا تجارتی مرکز بنے گا کیونکہ یہ مواقع کی سرزمین ہے جو دنیا کو باہم ملاتی ہے۔

ناصر خان جنجوعہ نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کا ایک بڑا تجارتی اور اقتصادی مرکز بھی بنے گا جبکہ بلوچستان میں سی پیک کے تحت صنعتوں کے قیام سے صوبہ ایک اہم صنعتی مرکز بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں وسیع مواقع موجود ہیں جہاں پر ماہی گیری، لائیو سٹاک، پھل، ونڈ انرجی، سولر انرجی اور کوئلہ کی نعمتوں کے علاوہ وسیع مواقع دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر چار نئے بڑے شہر بنائے جا سکتے ہیں۔ یہاں پر معدنیات کی مالیت کھربوں ڈالر ہے۔ ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان نہ صرف ملک میں بلکہ خطے اور عالمی امن و استحکام پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ، روس، چین سمیت دنیا کے کئی دوسرے ممالک کا تذویراتی شراکت دار ہے۔

پاکستان ایک طاقت ہے اور ہم امن سے محبت کرنے والی قوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے لیکن اس سے استفادہ کے لئے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے یہی وجہ ہے کہ ہم خطے میں امن کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک عظیم ملک، عظیم قوم اور عظیم مستقبل کے حامل ہیں۔ ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ دنیا بھر کے ممالک کے لئے ایک جنت سے کم نہیں۔

پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جس کے بہادر اور قابل ترین عوام ہیں۔ قومی ترقی کے لئے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مقامی آبادی کی صلاحیتوں سے استفادہ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ آئندہ انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستانی دانشمند عوام ہیں اور مستقبل کے لئے اپنی درست قیادت کا انتخاب کریں گے۔

Your Thoughts and Comments