متحدہ عرب امارات :چوروں نے چندے کے باکس کو بھی نہ بخشا

ایک دُکان میں موجود فلاحی تنظیم کا خیراتی ڈبہ لے اُڑے

منگل جون 12:09

راس الخیمہ(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ منگل جون ء) راس الخیمہ کی عدالت میں ایک ایسا مقدمہ پیش ہوا ہے جس میں ایک خلیجی مُلک سے تعلق رکھنے والے دو باشندوں پر ایک فلاحی تنظیم کا چندہ باکس اُڑانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سرکاری استغاثہ نے مذکورہ ملزمان پر کاروں کی دُھلائی کی ایک دُکان سے 190 اماراتی درہم‘ 800 اماراتی درہم مالیت کے دو کیش باکس اور ایک فلاحی تنظیم کا چندے والا باکس چوری کرنے کی فردِ جُرم لگائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ دونوں ملزمان مبینہ طور پر ایک دُکان میں چوری کی غرض سے گھُسے اور اس کارروائی کے دوران چاقو کی مدد سے دُکان کے شیشے کے دروازے کو توڑا اور ایک کمپیوٹر کو بھی نقصان پہنچایا۔ ملزمان کے وکیل نے استغاثہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دِیا۔

(جاری ہے)

وکیل کا کہنا تھا ’’اس جُرم کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور میرے مؤکلین نے بھی پولیس اور استغاثہ کی جانب سے کی گئی تفتیش کے دوران ان الزامات کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

‘‘ تاہم استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ مرکزی ملزم نے دو کیش باکسز میں سے 190 اماراتی درہم چُرانے کے علاوہ ایک فلاحی تنظیم کے چندہ اکٹھا کرنے والے باکس پر بھی ہاتھ صاف کیا ہے۔ استغاثہ کے دُوسرے گواہ جو کہ ایک سی آئی ڈی اہلکار ہے‘ نے عدالت کو بتایا کہ اُنہیں حالیہ دِنوں میں مختلف دُکانوں پر سے چوری کی شکایتیں موصول ہوئی تھیں۔ دُکان میں نگرانی کی غرض سے لگائے گئے کیمروں نے دو نقاب پوش افراد کی نشاندہی کی‘ جنہوں نے ہاتھوں میں دستانے پہن رکھے تھے۔

انہوں نے اپنی کار دُکان کے عقب میں پارک کی اور پھر ایک چاقو کا استعمال کرتے ہوئے دُکان میں نقب لگائی۔ وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ جس وقت یہ واردات ہوئی اُس وقت اُس کا مؤکل کئی دُوسرے مقدمات میں ملوث ہونے کے الزام میں راس الخیمہ پولیس کی حراست میں تھا۔ وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیا گیا پہلا گواہ دُکان کا مالک تھا‘ جو پولیس کی جانب سے اس مقدمے میں گرفتار کیے گئے ہر شخص کو مجرم ٹھہرا رہا ہے‘ حالانکہ چوروں نے اپنے چہرے پُوری طرح سے ڈھانپ رکھے تھے اور اُن کی شناخت نہیں کی جا سکی۔

وکیل کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ ملزم کی کم عمر کا دھیان رکھتے ہوئے اسے اس کیس سے بری کر دیا جائے۔ عدالت کی جانب سے اس مقدمے کا فیصلہ رواں ماہ کے آخر میں سُنایا جائے گا۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments