ایف بی آر کا ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

ملک میں بڑے بڑے پلازوں اور رئیل اسٹیٹ کا بھی ڈیٹا اکٹھا کرکے ٹیکس ادا نہ کرنے والے مالکان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل لانے کا فیصلہ

جمعہ جون 19:44

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعہ جون ء)ایف بی آرنے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ کرلیا، جبکہ یکم جولائی سے ایف بی آر کو ملکی و غیر ملکی اکائونٹس تک رسائی حاصل ہوجائیگی ، جبکہ ملک میں بڑے بڑے پلازوں اور رئیل اسٹیٹ کا بھی ڈیٹا اکٹھا کرکے ٹیکس ادا نہ کرنے والے مالکان کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

جمعہ کو ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ قواتین اور آئین کے مطابق ٹیکسی ایمنسٹی سکیم کی ڈیٹ نہیں بڑھا سکتے اور 30جون ہی آخری تاریخ ہے ۔ ہمارے پاس ٹیکسی ایمنسٹی سکیم کی تاریخ میں توسیع کا اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام تک ایک میسج پہنچے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ٹیکسی ایمنسٹی سکیم سے حاصل ہونیوالی آمدن کا فی الحال نہیں بتا سکتے لیکن امید ہے کہ یہ ٹارگٹ پورا ہوجائیگا۔ ایف بی آر حکام نے اعتراف کیا کہ سسٹم میں کمزوری کی وجہ سے ملک میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا سسٹم پوری طرح کامیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ایسی سکیمیں متعارف کروانا پڑی ہیں۔ انہوں نے واضح کے اکہ ٹیکسی ایمنسٹی سکیم سے کوئی چور یا ڈاکو فائدہ حاصل کرسکتا اور نہ ہی سیاست دان اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

اگر کوئی بندہ ملکی اثاثے ظاہرکرتا ہے تو اسے پانچ فیصد ٹیکس کرنا پڑیگا جبکہ بیرون ملک سے پیسہ پاکستان لانے پر دو فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ کوئی اگر چاہے تو پیسہ کلیئر کرکے پیسہ بیرون ملک بھی رکھ سکتا ہھے جس پر اسے پانچ فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور ادائیگی بھی ڈالر ز میں کرنا ہوگی ۔ پوری دنیا میں ٹیکسی ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی جاتی ہے تاکہ ریونیو اکٹھا کیا جاسکے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے ۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے اعتراف کیا کہ اگر ٹیکس سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا تو عام لوگوں پر اتنا زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ نہ ہوتا ۔

Your Thoughts and Comments