Azeem Insaan

عظیم انسان

ڈاکٹر صاحب نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر ابھی کام شروع ہی کیا تھا کہ انکل رحمان اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مٹھائی کے دس بارہ ڈبے لے کر آئے۔

منگل فروری

Azeem Insaan
پروفیسر ڈاکٹر فضل حق فاروقی
عام دنوں کی طرح آج بھی کلینک میں مریضوں کا ہجوم تھا۔ہر شخص اپنی باری کا ٹوکن لینے کی کوشش کررہا تھا۔کلینک نے ایک چھوٹے سے ہسپتال کی شکل اختیار کرلی تھی،جس میں دس بارہ مریضوں کے لئے بستر بھی تھے۔
میں جب بھی بیمار ہوتا ہوں تو اسی ہسپتال کے ڈاکٹر صاحب سے علاج کرواتا ہوں۔
ڈاکٹر صاحب کا معمول تھا کہ دوپہر دو بجے کلینک آتے اور رات دیر تک کلینک میں موجود مریضوں کا معائنہ کرتے۔ہر شخص پرچی پر لکھے ہوئے نمبر کے مطابق ڈاکٹر صاحب سے حال کہہ کر دوا لکھواتے تھے۔

دوبجے دوپہر کو جب ڈاکٹر صاحب آئے تو خاموشی چھاگئی۔ڈاکٹر صاحب کا معمول تھا کہ کلینک پر آتے ہی کلینک پر کام کرنے والے تمام لوگوں کے متعلق معلوم کرتے کہ سب آگئے ہیں یا کوئی غیر حاضر ہے۔

(جاری ہے)

آج ڈاکٹر صاحب کو کمپاؤنڈر لڑکے نے بتلایا کہ انکل رحمان کے علاوہ سب لوگ آگئے ہیں۔

آج انکل رحمان کو کلینک میں آنے میں کچھ دیر ہو گئی تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنی کرسی پر بیٹھ کر ابھی کام شروع ہی کیا تھا کہ انکل رحمان اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مٹھائی کے دس بارہ ڈبے لے کر آئے۔انکل رحمان نے ڈاکٹر صاحب کو سلام کیا اور کہا:”ڈاکٹر صاحب!آپ یہ مٹھائی خود بھی کھائیں اور کلینک میں موجود تمام لوگوں میں تقسیم کروادیں۔

ڈاکٹر صاحب نے حیران ہو کر پوچھا:”رحمان صاحب!کیا آج آپ کی کوئی لاٹری نکل آئی ہے جو یہ مٹھائی تقسیم کررہے ہیں۔“
رحمان انکل نے کہا:”ہاں،ڈاکٹر صاحب!آج اللہ نے میرے اوپر بہت مہربانی کی ہے۔اللہ کے فضل وکرم سے میرا بڑا بیٹا ڈاکٹر بن گیا ہے اور اب وہ بھی آپ کی طرح مریضوں کا علاج کیا کرے گا۔

ڈاکٹر صاحب بہت حیران ہوئے اور پوچھا:”آپ نے کبھی اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ آپ کا بیٹا میڈیکل کی تعلیم لے رہا ہے۔آپ نے ضرور کوئی بڑی نیکی کی ہو گی۔“
رحمان انکل نے کہا:”ڈاکٹر صاحب!آپ کے اس ہسپتال میں روزانہ دو،تین سو مریض علاج کے لئے آتے ہیں۔
ان میں بہت سے انتہائی غریب بھی ہوتے ہیں۔میں آپ سے کہتا تھا کہ روزانہ کم از کم دس مریضوں کا علاج مفت کیا جائے ،مگر آپ نے میری درخواست پر توجہ نہیں کی۔میں جب غریب اور نادار مریضوں کو دیکھتا تو مجھے بہت دکھ ہوتا میں نے اللہ کا نام لے کر نیکی کا ارادہ کیا اور روزانہ دو تین مریضوں کے ٹوکن اپنے پاس سے اور دوائی بھی دلواتا تھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ میری اس چھوٹی سی نیکی کی برکت سے ہی اس دوران میرے بیٹے نے ایف ایس سی میں بہت اعلیٰ نمبر حاصل کیے۔میری خوشی کی انتہا نہ رہی، پھر میں نے مزید نیکی کا ارادہ کیا جتنی تنخواہ لیتا تھا،اس کا ایک تہائی حصہ ہر ماہ غریب مریضوں پر خرچ کرنے کا ارادہ کیا۔
میرے گھر والوں نے سادگی اختیار کی۔آپ دوپہر میں کلینک کھولتے ہیں لہٰذا صبح کے وقت میں نے ایک سکول میں نوکری کر لی،لیکن اپنے بیٹے کی تعلیمی ضروریات میں کمی نہ آنے دی۔ یوں سمجھ لیجیے ڈاکٹر صاحب!کہ میں نے اللہ کے پاس کمیٹی ڈال دی تھی۔
اللہ کی مہربانی سے میری کمیٹی نکل آئی اور میرے کو آسانی سے میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا تھا اور آج اللہ نے اس کو ڈاکٹر بھی بنا دیا ہے میں اپنے رب کا بہت شکر گزار ہوں۔
ڈاکٹر صاحب!اب میں اپنا آبائی مکان فروخت کردوں گا اور خود کرائے کے مکان میں رہ کر اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیج دوں گا۔

انکل رحمان کی باتیں سن کر کلینک میں موجود تمام لوگوں نے دل میں تہیہ کیا کہ وہ بھی اللہ کے پاس کمیٹی ڈالیں گے اور غریبوں کی مدد ضرور کریں گے۔
ڈاکٹر صاحب نے اُٹھ کر انکل رحمان کو سلیوٹ کیا اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:”آپ عظیم انسان ہیں آج سے ہسپتال میں مستحق مریضوں کا علاج مفت ہو گا۔
مجھے کسی صلے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے مجھ پر بہت کرم فرمایا ہے۔آپ نے میرے دل میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کر دیا ہے۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

Your Thoughts and Comments