Achai Ka Inaam - Article No. 1692

اچھائی کا انعام

ابھی ریل کچھ دور تھی اس نے سوچا ریل میں پتا نہیں کتنے مسافر سوارہوں گے ،ان کی جان کو خطرہ ہے۔

بدھ مارچ

Achai Ka Inaam
دعا مصطفی ،خیر پور میرس
کسی گاؤں میں عباس اپنے ماں باپ اور بہنوں کے ساتھ رہتا تھا۔وہ بہت ہی نیک ،سمجھ دار اور ایمان دار لڑکا تھا۔وہ لوگ بہت ہی غریب تھے ۔عباس اس گاؤں کے چودھری کی زمین پر کام کرتا تھا۔
چودھری بڑا ہی کنجوس تھا۔وہ عباس کو کام کے بدلے تھوڑے سے پیسے دیتا جس سے ان لوگوں کی گزر بسر بہت مشکل سے ہو پاتی ۔
وہ جنوری کی ایک سرد شام تھی ۔عباس کھیت میں اکیلا کام کر رہا تھا۔سب کسان اپنے اپنے گھر جا چکے تھے ۔عباس نے یہ سوچ کر کام بند نہیں کیا کہ چلو تھوڑا کام ہے آج ہی مکمل کرلوں گا ۔
تھوڑی دیر بعد سارا کام ختم ہو گیا۔عباس سامان باندھ رہا تھا کہ دور سے ریل کے آنے کی آواز سنائی دی ۔آواز قریب ہوتی جارہی تھی ۔عباس نے سوچا کہ چلو آج قریب جاکے ریل دیکھ لیں ۔

(جاری ہے)

وہ وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ ریل کی پٹڑی بیچ سے ٹوٹی ہوئی تھی ۔

ابھی ریل کچھ دور تھی اس نے سوچا ریل میں پتا نہیں کتنے مسافر سوارہوں گے ،ان کی جان کو خطرہ ہے۔ یہ سوچ کر عباس بھاگتا ہوا اوپر چڑھ کر آوازیں دینے لگا ”ریل کی پٹڑی ٹوٹی ہوئی ،ریل کوروکو۔“
ریل کے ڈرائیور نے جب یہ آواز سنی تو جلدی سے ریل کو روک دیا اور باہر آکر پوچھنے لگا ”کیا بات ہے لڑکے!ریل کیوں رکوادی؟
تمھیں پتا ہے اس ریل میں وزیر اعلیٰ کی والدہ بھی موجود ہیں۔

ڈرائیور یہ کہہ کر چپ ہو گیا تو عباس نے بتایا:”ارے چاچاجی!آگے ریل کی پٹڑی ٹوٹی ہوئی ہے ۔اگر میں وقت پر نہیں بتاتا تو آج ان لوگوں کی جان جا سکتی تھی ۔دیکھیے اس ریل میں کتنے مسافر سفر کررہے ہیں۔“
”مہر بانی بیٹا!تم نے ہماری جانیں بچا لیں۔
“ڈرائیور چاچا نے کہا۔
”نہیں چاچا یہ تو ہمارا فرض ہے۔“
”اچھا بیٹا! آپ کے والد کا نام کیا ہے؟“
”میرے والد کا نام غلام محمد ہے۔“
اگلے دن عباس کھیت میں کام کررہا تھا کہ اچانک اس کی نظر کالے رنگ کی کارپر پڑی ۔
اس کا دروازہ کھلا اور اس میں ایک سوٹ پہنے ایک آدمی اور دو گارڈ کھیتوں کی طرف آنے لگے ۔اس آدمی نے پوچھا:”یہاں غلام محمد کا بیٹا کام کرتاہے؟“
”جی میں ہوں غلام محمد کا بیٹا،فرمائیے۔“
عباس نے قریب آکر جواب دیا۔

اس آدمی نے عباس سے کہا:”تم نے میری ماں سمیت بہت سے انسانوں کی جان بچائی ہے اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ لوگوں کو حکومت کی طرف سے ایک اچھا گھر اور ایک بڑی رقم انعام کے طور پر دیا جائے ۔تمھاری تعلیم مفت ہو گی۔ملک کو تم جیسے ہونہار کی ضرورت ہے ۔چلو ہمیں اپنے والد سے ملواؤ۔“عباس بہت خوش تھا کہ اللہ پاک نے اس کی اچھائی کا بہترین صلہ دیا۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Atana Gadha

سیانا گدھا

Atana Gadha

Hathi - Aik Jahan Hairat

ہاتھی ایک جہان حیرت

Hathi - Aik Jahan Hairat

Mera Behtreen Dost

میرا بہترین دوست

Mera Behtreen Dost

Aqalmandi Ka Inaam

عقلمندی کا انعام۔۔۔تحریر: مختار احمد

Aqalmandi Ka Inaam

احسان کی قید

Ahsan Ki Qaid

Purisrar Dastany

پر اسرار دستانے۔۔تحریر:مختار احمد

Purisrar Dastany

Tashkent Ka Lakarhara

تاشقند کا لکڑ ہارا

Tashkent Ka Lakarhara

Waapsi

واپسی

Waapsi

Saat Dumon Wala Choha

سات دموں والا چوہا

Saat Dumon Wala Choha

Heera Pheeri

ہیرا پھیری

Heera Pheeri

Shahid Ki Billi Kaise Mari

شاہد کی بلی کیسے مری

Shahid Ki Billi Kaise Mari

حوصلہ

Hosila

Your Thoughts and Comments