MENU Open Sub Menu

Chotay Magarmach Ki Muskarahat

Chotay Magarmach Ki Muskarahat

چھوٹے مگر مچھ کی مسکراہٹ

جینو اردگر پھیلے ہوئے پانیوں میں پائے جانے والے مگر مچھوں میں سب سے بھولا بھالا تھا۔ جب دوسرے مگر مچھ اوروں پر غرارتے اور دانت پیس پیس کر غصہ دکھاتے تو جینو ہر کسی کو مسکراکرملتا اُس کی ہنسی اُس کے بڑے منہ پر بڑی پھلی لگتی۔

احمد عدنان طارق :
جینو اردگر پھیلے ہوئے پانیوں میں پائے جانے والے مگر مچھوں میں سب سے بھولا بھالا تھا۔ جب دوسرے مگر مچھ اوروں پر غرارتے اور دانت پیس پیس کر غصہ دکھاتے تو جینو ہر کسی کو مسکراکرملتا اُس کی ہنسی اُس کے بڑے منہ پر بڑی پھلی لگتی ۔
ایک دن دوسرے مگرمچھوں نے اُسے روکا کہ اُسے اتنا مسکرانا نہیں چاہئے بلکہ دوسرے مگرمچھوں کی طرح چہرے پر ناراضگی کاتاثر رکھناچاہئے ۔ جینو بچارے نے سب سے وعدہ کیا کہ وہ کوشش کرے گا اور پھرایک ناراض ساچہرہ بنالیا۔ لیکن اُس کے چہرے کے تاثرات صرف دو سکینڈ برقرار رہے اور اُس کے چہرے کی مسکراہٹ واپس آگئی ۔
اُس نے سب سے پوچھا کہ وہ ناراض چہرے سے کیسا لگ رہا تھا دوسروں نے براسامنہ بناکر اُسے بتایا کہ ” بہت ہی بھونڈا “ اُن کا خیال تھا کہ جینو کبھی دوسرے مگر مچھوں کی طرح ظالم نہیں ہوسکتا ۔
ایک دن کچھ دریائی گھوڑے دریا میں آئے وہ بہت بڑے بڑے اور تعداد میں بھی زیادہ تھے ۔
انہوں نے دریا میں مگر مچھوں کی من پسند جگہ پر قبضہ جمالیا اور ہلاگلاشروع کردیا۔ وہ منہ میں پانی بھر بھر کر ایک دوسرے پر پھینک رہے تھے کچھ غوطے لگا کر پائی میں چھین چھپائی کھیل رہے تھے ۔ اُن کی اُچھل کود سے پانی میں بڑی بڑی لہریں پیدا ہورہی تھیں ۔
اُن سب کو بڑا مزا آرہا تھا۔ جینو کوان کاہنسی مذاق اور ہلاگا بہت پسند آرہا تھا۔ جینو کو سب سے مزے والی بات یہ لگ رہی تھی کہ دریائی گھوڑے پانی میں ڈوب جاتے اور پھر وہ آہستہ آہستہ پانی کی سطح پر نمودار ہوتے توبے شمار پانی کے بلبلے بنتے ۔
اُسے اُن کا یہ مقابلہ بہت پسند تھا کہ سب سے بڑی لہر کون بناتا ہے ، پھر پانی کو ہوا میں پھینک کرفوارے بنانے والا انداز بھی بیحد پسند آرہا تھا۔ لیکن دوسرے نک چڑھے مگر مچھوں کو یہ سب بالکل پسند نہیں آرہا تھا۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ان سے چھٹکارہ کیسے حاصل کیا جاسکتا ۔

جینو نے دریائی گھوڑے کے ایک بچے کو دیکھا جو بڑا گول منول تھا۔ اُس کانام جگنو تھا۔ جگنو نے جینو سے کہا کہ وہ یہ شرط لھا سکتا ہے کہ وہ اتنے بلبلے نہیں بناسکتا اور پھر اُس نے پانی کے بلبلوں کاایک بادل بنا دیا۔ لیکن جینو نے یہی کام اُسے اپنے نتھنوں سے کردکھایا۔
پھرجگنو نے دریامیں غوطہ لگا لیا۔ لیکن جینو بھی یہ کام کرسکتاتھا وہ بھی آسانی سے پانی کے نیچے چلا گیااور پھر وہ تیرتے ہوئے دریاکنارے چلے گئے ۔ اس طرح وہ دونوں دوست سارادن کھیلتے رہے ۔ جینو نے زندگی میں اتنا مزاکبھی نہیں کیا تھا۔

وہ سب اکٹھے ہوکر سوچ رہے تھے کہ ان دریائی گھوڑوں سے چھٹکارہ کیسے حاصل کیاجاسکتا ہے ۔ پہلے انہوں نے دانت نکوس کرانہیں ڈراتا چاہا۔ لیکن دریائی گھوڑے مسکرائے تو مگرمچھوں نے دیکھا کہ اُن کے دانت زیادہ بڑے تھے ۔ پھر وہ دریائی گھوڑوں سے بدتمیزی پر اُترآئے اور انہیں بدبودار جانور کہا لیکن دریائی گھوڑوں نے بُرا نہیں منایا وہ اسے مگرمچھوں کا مذاق سمجھ رہے تھے جب دریائی گھوڑے تیرنے لگے تو مگر مچھوں نے اُن پر حملوں کردیا لیکن بڑے سکون سے گھوڑے دریاکی گہرائی میں چلے گئے جہاں مگر مچھوں کا جانا مشکل تھا۔

اب مگرمچھوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کریں لیکن جینو کے پاس ایک ترکیب تھی اُس نے نک چڑھوں سے پوچھا کہ وہ مسکرا کردریائی گھوڑوں کو پیارے سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں تو نک چڑھ مگر مچھوں کی ہنسی نکل گئی کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ لیکن جینو نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا تب نک چڑھوں نے اُسے یہ بھی کرنے کی اجازت دے دی۔
نک چڑھوں کاخیال تھاایسا ہو نہیں سکتا لیکن پھر ایسا ہوگیا۔ دریائی گھوڑے جینو کو پسند کرتے تھے انہیں ان کے چہرے کی مسکراہٹ بہت پسند تھی انہوں نے اس کی بات غور سے سنی جب جینو نے انہیں بتایا کہ نک چڑھے مگر مچھ ہلاگلا پسند نہیں کرتے ۔
اسی لئے وہ ہر وقت جلے بھنے رہتے ہیں تو انہوں نے جینو کو کہا کہ وہ ایک شرط پر یہ جگہ چھوڑ کردریا میں آگے چلے جاتے ہیں۔ اگروہ جگنو کے ساتھ روز کھیلنے وہاں آیا کرے گا اُس نے دریائی گھوڑوں کی یہ شرط مان لی ۔
مگرمچھ دریائی گھوڑوں کو جاتے دیکھ کربہت حیران تھے ۔ انہوں نے جینو سے کوئی بات نہیں کی لیکن وہ اب دل سے اس بات کو مان گئے تھے کہ ” لڑنے بھڑنے سے کہیں بہتر مسکراکربات کرنا ہے ۔

Your Thoughts and Comments