Baba Berro

Baba Berro

بابا بیرو:

شہر آنے سے پہلے ہم لوگ گاؤں چاند پور میں آباد تھے، جہاں سب لوگ پیار ومحبت سے رہتے تھے

شیخ عبدالحمید عابد:شہر آنے سے پہلے ہم لوگ گاؤں چاند پور میں آباد تھے، جہاں سب لوگ پیار ومحبت سے رہتے تھے۔ گاؤں میں ایک بابا جی تھے، جن کی عمر اسی پچاسی سال کے درمیان ہوگی۔ جھکی ہوئی کمر، ہاتھ میں لاٹھی، آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک ، مگر ان کی ہمت جوانوں جیسی تھی۔

نام تو ان کا بشیر تھا۔ گاؤں میں بابا بیرو کے نام سے مشہور تھے۔ کہتے ہیں بابا بیرو کے والد نے پیدائش سے پہلے یہ منت مانی تھی کہ اگر ان کے ہاں لڑکا ہوا تو وہ ایک درخت لگائیں گے۔ چناں چہ بابابیرو کی پیدائش کے بد انھوں نے اپنی منت پوری کرنے کے لیے گاؤں کے بڑے ٹیلے کے پاس ایک برگد کا درخت ہم عمر تھے۔
ٹیلے کے اوپر بابا بیرو کا کمرا اور اور گھر کے اطراف میں ایک باغیچہ تھا۔ بابابیرو کو پھولوں، پودوں،درختوں اور چڑیوں سے عشق تھا۔

(جاری ہے)

پھول ان کی کم زوری تھے۔ میں جب بھی ان کے باغیچے میں جاتا م، مجھے لگتا جیسے میں کسی اور ہی دنیا میں آگیا ہوں، جہاں ہر طرف پھولوں کی بہار ہوتی۔

بابابیرو مجھے ہمیشہ اپنے باغیچے میں کام کرتے ہوئے ملتے۔ نئے پودے لگانے کے لیے زمین کھود رہے ہوتے اور کبھی درختوں کے سوکھے پتے توڑتے ہوئے دکھائی دیتے۔ وہ جب بھی مجھ سے ملتے ، بڑی محبت سے ملتے۔ مجھے ان سے عقیدت سی ہوگئی تھی۔
وہاں آنے کے بعد میرا گھر جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ میں اکثر ٹیلے کے پاس سے گزرتے ہوئے برگد کے درخت کو دیکھتا تو مجھے بابا بیرو یاد آجاتے۔ میں سوچتا،اس درخت اور بابا بیرو میں کتنی مشابہت ہے۔ برگد کے درخت کی چھال دیکھ کر مجھے بابابیرو کی جھریوں بھری کھال والا چہرہ یاد آجاتا اور برگد کی داڑھی مجھے بابا بیرو کی داڑھی لگتی، مگر میں اکثر سوچتا کہ بابا بیرو کا قد برگد کے درخت جتنا کیوں نہیں ہے۔
اس خیال پر مجھے خود بھی ہنسی آتی، مگر اس خیال نے میرے ذہن کو مکڑی کی طرح ہر طرف سے جکڑ لیا۔ آخر ایک دن میں نے بابا بیرو سے یہ سوال کر ڈالا۔ بابا بیرو کام کرتے رُک گئے میر ی طرف غور سے دیکھا اور پھر ہنس کربولے:” دیکھو بیٹے! کوئی چیز ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔
ہر چیز فنا ہو جائے گی، مگر اچھے عمل اور نیک خیال کی بلندی انسانوں کو پہاڑوں سے بھی اونچا کردیتی ہے۔ نیکی اور عمدہ کردار پتھر کی لکیر کی طرح ہمیشہ دلوں پر نقش رہتا ہ۔“بابابیرو ہمیشہ ایسی باتیں کرتے اور ایسی باتیں ہمیشہ میری سمجھ سے باہر ہوتیں۔
بابابیرو کو پھولوں سے بڑی محبت تھی۔ ان پھولوں اور پودوں کو وہ اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے اور ان کا بیچنا انھیں گوارا نہ تھا۔ ایک دن میں معمول کے مطابق بابا بیرو سے ملنے آیا توخلاف توقع بابا بیرو کی زور زور سے بولنے کی آوازیں آئیں۔
بابا بیرو کسی سے جھگڑ رہے تھے۔ یہ میرے لیے حیران کن بات تھی۔ میں نے سنا ، وہ آدمی کہہ رہا تھا : ” میں ان پودوں کے پانچ سو روپے دینے کو تیار ہوں، اب تو مان جائیے۔“پھر مجھے بابا بیرو کی غصیلی آواز سنائی دی:” میں کہہ دیا ، یہ پھول اور پودے بیچنے کے لیے نہیں ہیں۔
روپے پیسے سے آپ ان پھولوں کو خرید تو سکتے ہیں ،مگر ان کے حقیقی رنگ وبُو سے آپ لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ یہ حقیقی مسرت تو صرف ان پھولوں کی کاشت سے حاصل ہوتی ہے۔ ” وہ آدمی مایو س ہوکر خاموشی سے چلا گیا۔ دن گزرتے گئے۔ بابا بیرو کی کمر جھکتی گئی ، مگر ان کے باغ کی دل کشی بڑھتی گئی۔
برگد کا درخت اس ٹیلے پر کھڑ ارہا اور وہ سوال میرے ذہن میں گونجتا رہا۔ ایک دن گاؤں کے قریب بہنے والے دریا کو غصہ آگیا۔ کھیت ، مکان، انسان سب ہی سیلاب سے متاثرہ ہوگئے مگر بابا بیرو کا مکان ٹیلے پر ہونے کی وجہ سے محفوظ رہا اور وہ برگد کا درخت سینہ تانے اسی طرح کھڑا رہا۔
انہی دنوں گاؤں میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑی۔ گاؤں والوں کے لیے پہلے ہی مصیبتں کم نہ تھیں کہ اب رہتی سہی کسر اس ہیضے نے پوری کردی۔ ان دنوں بابا بیرو بہت مضطرب اور پریشان نظر آتے تھے۔ لگتا تھا، جیسے انھیں کوئی خیال اندر ہی اند ستائے جا رہا ہے۔
اس دن میں بابا بیرو کے پاس گیا اور بابا حسرت سے ایک ایک پھول کو دیکھ رہے تھے۔ مجھے دیکھا تو کچھ دیر چپ رہے، پھر بولے:” بیٹا! میں نے باغ بیچ دیا ہے۔“ میں دیکھا ،وہ آدمی جس کو اس دن بابابیرو نے بہت زور سے ڈانٹا تھا، بابا کے پاس خوش خوش نکلا تھا۔
بابا کے ہاتھ میں اس وقت ڈھیر سارے رپے تھے۔ بابا کے اس فیصلے پر مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں نے کہا:”بابا! یہ تم نے کیاکیا؟ اپنی سب سے قیمتی چیز کو یوں ڑیوں کے مول ناقدروں کے حوالے کردیا۔“ بابا کچھ دیر چپ کھڑے رہے۔ عینک کے موٹے شیشوں کے پاس ان کی آنکھوں سے آنسو چھلکتے صاف نظر آرہے تھے۔
انھوں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:” بیٹا! انسان دوستی سب سے بالا تر ہے۔ پھولوں سے محبت نے مجھے انسانوں سے محبت کرنا سکھا دیا ہے۔ مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ گاؤں کے اوپر دکھ کے بادل منڈلاتے پھریں اور میں اپنے پھولوں،پودوں میں مگن رہوں۔
میرے فیصلے سے اگر گاؤں والوں کے آنگن میں خوشی کے پھول کھل سکیں تو بیٹے! یہ بہت بڑا کام ہوگا۔“ بابا نے اسی دن میرے ساتھ جا کر وہ ساری رقم امدادی کیمپ میں جمع کرادی، جو گاؤں والوں کی مدد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس دن مجھے ایسا لگا۔
جیسے بابا کا قد ہم سب سے اونچا ہے۔ اونچا،اونچا․․․․ اور بہت اونچا ، برگد کے درخت ست بھی اونچا۔ گاؤں کی خوشیاں پھر سے لوٹ آئیں۔ برگد کا درخت آج بھی اس ٹیلے پر قدم جمائے کھڑا ہے۔ بچے، بوڑھے برگد کی لمبی داڑھی پکڑ کر جھولتے ہیں۔ مگر اس دن کے بعد سے بابا بیرو گاؤں کے کسی شخص کو نظر نہیں آئے

Your Thoughts and Comments