بند کریں
Urdupoint.com
بچے کہانیاںاخلاقی کہانیاںبھُورا اور چتکبرا

مزید اخلاقی کہانیاں

- مزید مضامین
بھُورا اور چتکبرا
چتکبرے نے اُسے پینے کو پانی دیا جس سے بھورے کی طبیعت ٹھیک ہوگئی ۔ اُس نے سر اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا
احمد عدنان طارق:
کہیں پردو مرغے رہا کرتے تھے۔ ایک مرغا بھورا تھا اور دوسرا چتکبرہ ۔ وہ گہرے دوست تھے۔ ایک صبح وہ سیر کرنے کیلئے نکلے تو بھورے نے چتکبرے سے کہا:“ اگر مجھے مونگ پھلی کا دانہ ملا تو میں آدھا تمہیں دوں گا۔“ تھوڑی دیر بعد بھوڑے کو ایک مونگ پھلی کا دانہ مل گیا اُسے بہت بھوک لگ رہی تھی۔ اُس نے سوچا یہ دانا وہ کھا لیتا ہے، جب اُسے دوبارہ دانا ملے گا تو وہ چتکبرے کو دے دے گا۔ پھر اُس نے جلدی جلدی دانا منہ میں ڈالا اُسے نگل گیا۔ لیکن جلدی میں دانے کا خول اُس کے حلق میں پھنس گیااور اُسے سانس لیتے ہوئے ہچکولے آنے لگے۔ وہ ہچکی لیتا ہوا بولا”چتکبرے! مجھے سانس نہیں آرہا، جلدی سے نلکے پر جاؤ اور میرے لئے پانی لیکر آؤ۔ ورنہ میں مرجاؤں گا۔“چتکبرا پورے زور سے بھاگا اورنلکے پر پہنچا اور درخواست کرتے ہوئے بولا:” اے نلکے! مجھے بھورے کیلئے جلدی سے تھوڑا سا پانی دے دو ورنہ وہ مرجائے گا۔“ نلکے نے کہا؛” پہلے وہ دور گھر دکھائی دے رہا وہاں جاؤ اورمیرے لئے وہاں بیٹھی ہوئی دلہن کے بالوں میں لگے کچھ پھول لاکردو“ چتکبرا بھاگا اور دلہن کے پاس پہنچا اور اُسے کہنے لگا؛ اے دلہن! مجھے اپنے بالوں میں سجے کچھ پھول دے دو۔ تب نلکا مجھے پانی دے گا اور بھورا جو مررہا ہے وہ بچ جائے گا۔دلہن کہنے لگی؛ پہلے موچی کے پاس جاؤ اور میرے لئے نئے جوتے لیکر آؤپھر تمہیں پھول دوں گی۔ چتکبرا پھر بھاگا اور موچی کے پاس پہنچا اور اُسے کہنے لگا؛ بھائی مجھے دلہن کیلئے نئے جوتے دے دو، وہ اسکو بدلے مجھے پھول دے گی جو میں نلکے کو دوں گا، وہ مجھے پانی دے گا جسے پی کر بھورا مرنے سے بچ جائے گا۔“ موچی مولا؛ پہلے غلے والے گودام میں جاؤ اور وہاں کھڑی بھینس سے میرے لئے دودھ لیکر آؤ پھر میں دلہن کے جوتے دوں گا۔“چتکبرا پھر بھاگم بھاگ بھینس کے پاس پہنچا اور اُسے کہنے لگا۔ پیاری بھینس مجھے موچی کیلئے دودھ دے دو تاکہ وہ مجھے دولہن کے جوتے دے دے وہ مجھے پھول دے گی جو میں نلکے کو دوں گا۔ نلکا مجھے پانی دے گا جسے پلا کر میں بھورے کو بچاؤں گا۔ بھینس بھوکی تھی وہ کہنے لگی ،پہلے مجھے چراگاہ سے تازہ گھاس لاکردو پھر میں تمہیں دودھ دوں گی۔“ چتکبرا بے چارہ یہ سُن کر چراگاہ کی طرف بھاگا اور چراگاہ سے کہنے لگا۔ اے چراگاہ! مجھے تھوڑا گھاس دے دو ۔ میں اُسے بھینس کو کھلاؤں گا پھر دودھ لیکر موچی کو دوں گا، جوتے لیکر دلہن کو دوں گا ۔ پھول لیکر نلکے کو دوں گا ، نلکے سے میں اپنے دوست کیلئے پانی لو گا اور اپنے دوست کا بچاؤں گا۔ چراگاہ نے کہا؛ چتکبرے جتنا مرضی گھاس لے لو اور اپنے دوست کو بچاؤ اور کچھ پھول بھی لے جاؤ۔ یہ سن کر چتکبرے نے اتنی گھاس کاٹ لی جتنی وہ اُٹھا سکتا تھا اور گھاس اٹھا کر اتنی تیز دوڑا جتنی تیز وہ دوڑ سکتا تھا۔پھر بھینس نے موچی کیلئے دودھ دیا ۔موچی نے دلہن کیلئے جوتے دیئے۔ دلہن نے نلکے کیلئے پھول دیئے اور نلکے نے چتکبرے کو پانی دیا۔چتکبرا دوڑ کر اُس جگہ پہنچا جہاں وہ اپنے دوست کو چھوڑ گیاتھا۔ بھورا بالکل ساکت پڑا تھا ، ایسا لگتا تھا جیسے وہ مرچکا ہو۔ چتکبرا بے اختیار رونے لگا۔ اُسکے رونے کی آوازیں سن کر چھ چوہے وہاں آگئے اور چتکبرے کو تسلی دینے لگے۔ وہ بولے؛ ہم تمہارے دوست کی قبر بنانے میں تمہاری مدد کریں گے، ہم اسے خوبصورت گاڑی میں رکھ کر لائیں گے اور تم اُس کے جنازے کے پیچھے پیچھے چلنا۔“پھر جب وہ سب بھورے کو اُٹھا کر گاڑی میں ڈالنے لگے تو اُسکے حلق میں پھنسا ہوا ، مونگ پھلی کا خول ہلا جس سے بھورے کے حلق سے آوازیں نکلنے لگیں۔ وہ زندہ تھا۔ چتکبرے نے اُسے پینے کو پانی دیا جس سے بھورے کی طبیعت ٹھیک ہوگئی ۔ اُس نے سر اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا۔ چوہوں نے قبر میں مٹی ڈال کر اُسے ہموار کردیا اور دونوں دوست گپیں ہانکتے گھر کو چل دیئے۔ لیکن بچو آپ نے دیکھا دوست کو دھوکا دینے کا بھورے کا کیا انجام ہوا۔

(6) ووٹ وصول ہوئے