Aakhri Dawat

Aakhri Dawat

آخری دعوت

وہ بھوکا تھااور کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں بھی تھا۔ مارے جانے کاخطرہ ہرطرف سے اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہورہاتھا۔

جاوید اقبال:
وہ بھوکا تھااور کسی محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں بھی تھا۔ مارے جانے کاخطرہ ہرطرف سے اسے اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہورہاتھا۔ وہ کونوں کھدروں میں چھپتا چھپا تا کوئی محفوظ ٹھکانا ڈھونڈ رہاتھا۔
جیسے ہی وہ ایک گلی کاموڑمڑ کے ایک کھلی سڑک پر آیا، اسے ایک دیوار میں سوراخ نظر آگیا۔ وہ سمٹ سمٹا کراس سوراخ سے اندر داخل ہوگیا۔ جونہی اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں۔ حیرت اور خوشی سے وہ اچھل پڑا۔ یہ رنگوں اور خوشبوؤں کی ایک انوکھی دنیا تھی، جہاں ہر طرف کھانے کی مزے مزے کی چیزیں سجی ہوئی تھیں۔
ایک طرف کیک، پیسٹریاں ، بسکٹ اور کریم رول اپنی بہاردکھا رہے تھے دوسری طرف لذیذمٹھائیاں اسے للچارہی تھیں۔ ایک طرف کاغذ والے دودھ کے ڈبے رکھے تھے تو کہیں پھلوں کے رس کے ڈبے اسے لبھارہے تھے۔

(جاری ہے)

ایک کونے میں ٹافیوں اور چاکلیٹوں کی رنگ بھری دنیا است کھانے کی دعوت دے رہی تھی۔


پہلے تو اسے اپنی آنکھوں پہ یقین ہی نہیں آیا۔ اس نے پلکیں جھپک جھپک کے دیکھا کہ کہیں یہ خواب تو نہیں ۔ وہ بے تابی سے آگے بڑھا۔ چیزیں اتنی تھیں کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ پہلے کیا چیز کھائے۔ چیزوں کاایک جہاں تھا اور بس وہ تھا۔
وہ ایک چیز تھوڑی سی چکھتا اور پھردوسری کی طرف لپکتا۔ ابھی اسے کھارہاہوتا کہ تیسری کی کشش اسے اپنی طرف کھینچ لیتی۔ کھاتے کھاتے اسے پیاس لگی تو دودھ کے ڈبوں کی طرف لپکا۔ ایک ڈبے میں سوراخ کرکے جی بھر کر دودھ، پیا، پھرمٹھائیاں پر ہلہ بول دیا۔
گلاب جامن، برفی، بالوشاہی، قلاقند،لڈو، چم چم، رس گلے ڈھیر سارے موجود تھے۔ وہ کھا رہاتھا اور ناچ رہاتھا۔ اس نے اتنا کھایا کہ پیٹ بھرگیا۔ اب وہ اپنے بوجھل پیٹ کے ساتھ آہستہ آہستہ چیزوں کی طرف بڑھتا تھوڑاسا چکھتا اور دوسری طرف بڑھ جاتا۔

نہ جانے کتنا وقت گزرگیا۔ اس پہ سستی طاری ہونے لگی۔ اس نے سوچا اب یہاں سے چلاجائے، مگر اس مزے دار میٹھی دنیاکے آخری کونے سے ایک مسحور کن مہک نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ یہ سوندھی سوندھی خوشبوسب خوشبوؤں سے انوکھی سب سے الگ تھی۔
اس کی تیز نظروں نے اس جگہ کو دیکھ لیا، جہاں سے یہ خوشبو آرہی تھی۔ یہ گھی میں تلی سرخ سرخ روٹی کابڑا ساٹکڑا تھا، جولوہے کی ایک عجیب سی چیز کے ساتھ پڑا تھا۔ اگرچہ اس کامعدہ گلے تک بھر چکاتھا، ،مگر ڈھیر ساری میٹھی چیزیں کھانے کے بعد مزے دار روٹی کاذائقہ چکھنے سے وہ خود کو نہ روک سکا۔
وہ بے تابی سے وہاں جاپہنچا اور جیسے ہی روٹی کے ٹکڑے کوکھانا، چاہا، ایک پُراسرار سی چیز تیزی سے اس کے سر کی طرف آئی۔ اس نے خود کو اس کی زد سے بچانا چاہا، مگر بھرے سے پیٹ اور غنودگی کی وجہ سے وہ پیچھے نہ ہٹ سکا اور ایک خوف ناک آواز کے ساتھ پلک جھپکتے ہی اس کی گردن ایک آہنی شکنجے میں جکڑ گئی۔
اس کی آنکھیں حیرت کا گہرا تاثر لیے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس حیرت میں ایک رنگ پچھتاوے کا بھی تھا کہ اے کاش میں اتنالالچ نہ کرتا۔ پھر اس کا دم گھٹتا چلا گیا۔
دوسری صبح بیکری کے مالک نے اپنی دکان کاشٹر اٹھایا تو ایک کونے میں لوہے کے شکنجے میں پھنسے چوہے کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
اس نے آگے بڑھ کر مردہ چوہے کو اٹھاکر کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیااور دکان میں گھوم کراس نقصان کاجائزہ لینے لگا، جو اس بن بلائے مہمان کی وجہ سے ہوا تھا۔

Your Thoughts and Comments