kahani quaid e azam ki

Kahani Quaid E Azam Ki

کہانی قائداعظم رحمتہ اللہ کی

دادی جان! قائد اعظم نظم وضبط پر بہت زور دیتے تھے ۔اس بارے میں بھی بتائیے۔“ ”تمہارا سوال بہت اہم ہے ‘قائد اعظم وقت کے بہت پابند تھے ۔ذاتی کاموں کے علاوہ سرکاری تقریبات میں وقت کی پابندی کا خیال رکھتے تھے ۔

صوفیہ یزدانی
آپ سب بچے ظہر کی نماز ادا کرکے جلدی سے تیار ہو جائیں ‘آج ہم سب قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر جائیں گے ۔مزار کے احاطے میں قائد اعظم کے استعمال کی مختلف چیزیں ایک میوزیم میں رکھی ہوئی ہیں ‘آج آپ کو وہ تمام چیزیں بھی دکھائی جائیں گی “۔

ابو کی بات سُن کر سب بچے وضو کرکے نماز ادا کرنے لگے اور نماز ادا کرنے کے بعد تیاری کرکے ابو اور امی کے ساتھ مزار قائد کی سیر کیلئے روانہ ہو گئے۔
رات کو سب بچے دادی جان کو مزار قائد کی سیر اور قائد اعظم کے زیر استعمال چیزوں کے بارے میں بتا رہے تھے ۔
دادی جان سب کی باتیں سُن کر بہت خوش ہورہی تھی ۔وحیدہ نے کہا:”دادی جان! آپ نے ہمیں قائد اعظم کی کہانی سنانے کا وعدہ کیا تھا۔
”جی! مجھے اپنا وعدہ اچھی طرح یاد ہے “اُنہوں نے بچوں سے کہا:”اب آپ سب خاموشی سے بیٹھ جائیں ۔

(جاری ہے)

آج میں آپ کو قائد اعظم کی زندگی کی کہانی سناؤں گی۔
”قائد اعظم محمد علی جناح 25دسمبر 1879ء کو کراچی کے محلہ کھار ادر میں پیدا ہوئے “۔سارم نے جلدی سے دادی جان کی بات شروع ہونے سے پہلے کہا تو سب ہنسنے لگے”سارم ! تم صبر کرو پہلے ہم دادی جان سے قائد اعظم کی کہانی سنیں گے اور دادی جان پوچھیں گی تو ہم بھی قائد اعظم کے بارے میں بتائیں گے”صائمہ آپی نے سارم کو سمجھاتے ہوئے دادی جان سے بات جاری رکھنے کیلئے کہا۔
”پیار ے بچو! پاکستان کے قیام سے پہلے بر صغیر میں مسلمان اور ہندورہتے تھے لیکن مسلمانوں کو مذہب سمیت کوئی بنیادی حقوق حاصل نہیں تھے ۔
مسلمانوں کیلئے ایک ایسے وطن کی ضرورت تھی جہاں اُنہیں مذہبی آزادی اور تمام بنیادی حقوق حاصل ہوں۔
یہ ملک حاصل کرنے کیلئے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان چلی جس کے نتیجے میں 14اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوا ۔قائد اعظم بچپن سے ہی بہت نیک سیرت اور محنتی تھے ۔آپ دل لگا کر پڑھتے تھے ۔“
سب بچے دادی جان کی باتیں بہت غور سے سن کر ذہن نشیں کررہے تھے ۔
”دادی جان! میں ایک سوال پوچھ سکتا ہوں “سارم نے سوال کرنے کی اجازت لی اور اُن سے اجازت لینے کے بعد اُس نے پوچھا:”
دادی جان! قائد اعظم نظم وضبط پر بہت زور دیتے تھے ۔اس بارے میں بھی بتائیے۔“
”تمہارا سوال بہت اہم ہے ‘قائد اعظم وقت کے بہت پابند تھے ۔
ذاتی کاموں کے علاوہ سرکاری تقریبات میں وقت کی پابندی کا خیال رکھتے تھے ۔فالتو لائٹیں ہمیشہ بند کر دیتے تھے ۔گورنر جنرل کی حیثیت سے آپ پر یزیڈنسی میں رہتے تھے تو وہاں کی فالتو لائیٹس بھی ہمیشہ بند کر دیتے تھے “ دادی جان
ہمیں بھی تو ایسا ہی کرنا چاہئے ناں “سارم نے کہا۔

”بالکل صحیح ہے ،ہمیں بھی گھر کی فالتو لائیٹس بند کرکے رکھنی چاہئے“ابو نے سارم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دادی جان سے کہا کہ وہ قائد اعظم کے بارے میں باتیں جاری رکھیں ۔
”قائد اعظم کو اللہ اور پیارے نبی حضرت محمد مصطفی سے بہت محبت تھی ۔
آپ نماز میں بہت طویل سجدہ کرتے اور اللہ تعالیٰ سے پاکستان کی کامیابی کی دعا کرتے ۔آپ کی یہ دعا قبول ہوئی اور 14اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آگیا۔پاکستان کا قیام کوئی آسان کام نہیں تھا۔لیکن قائداپنی صحت کی پرواہ کئے بغیر قیام پاکستان کیلئے دن رات محنت کرتے رہتے ۔

پاکستان بننے کے بعد پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے آ پ نے دن رات محنت کی ‘آپ سب کو مل جل کر پاکستان کی تعمیر کرنے کیلئے کہتے تھے ۔آپ نے طلبا سے بھی کہا کہ وہ سیاست میں حصہ لینے کی بجائے تعلیم پر بھر پور توجہ دیں ۔بچو! مجھے خوشی ہے کہ آپ سب قائد اعظم کی کہانی بہت غور سے سُن رہے ہیں ۔
قائد اعظم اپنی ذات میں ایک تاریخ تھے ،
آپ نے ہمیں اخوت ‘محبت اور نظم وضبط کا درس دیا۔آپ نے دن رات محنت کرکے ہمیں ایک آزاد وطن دیا۔اس کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے “۔دادی جان کی بات ختم ہونے کے بعد ابوجان نے پُر زورالفاظ میں کہا:”اور اب اس آزاد وطن کی حفاظت اور اس کی تعمیر وترقی کیلئے متحد ہو کر کام کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔

قائد اعظم بہت محبت کرنے کی وجہ سے بیمار رہنے لگے تھے اور 11ستمبر 1948ء کو آپ خالق حقیقی سے جا ملے “۔ابو جان نے اپنی بات ختم کی تو وحید اور وحیدہ نے دادی جان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قائد اعظم زندہ باد’پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا یا ۔باقی بچے بھی اُن کے ہم زبان ہو کر نعرہ لگا نے لگے۔

Your Thoughts and Comments