Nanhi Chirya

ننھی چڑیا

نینا ویسے تو خوش تھی لیکن اسے ایک بات بہت اداس کر دیتی تھی کہ اس کا گھر بہت چھوٹا تھا،وہ ہمیشہ اللہ سے دعا کرتی کہ اسے بہت بڑا گھر مل جائے تا کہ وہ

جمعہ جنوری

nanhi chirya

نینا ایک ننھی سی چڑیا تھی جو اپنے مما،پاپا کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھونسلے میں رہتی تھی۔اس کے گھونسلے کے آس پاس بہت ساری چھوٹی بڑی چڑیاں رہتی تھیں ۔
نینا کی بھی بہت ساری سہیلیاں تھیں جن کے ساتھ وہ کھیلتی تھی ۔
نینا ویسے تو خوش تھی لیکن اسے ایک بات بہت اداس کر دیتی تھی کہ اس کا گھر بہت چھوٹا تھا،وہ ہمیشہ اللہ سے دعا کرتی کہ اسے بہت بڑا گھر مل جائے تا کہ وہ اپنی تمام سہیلیوں کو بلا کر کھیلے ،نینا کا یہ گھر اتنا چھوٹا تھا کہ وہ اپنی کسی سہیلی کو بھی نہیں بلاسکتی تھی نینا کی مما اسے اکثر سمجھاتی کہ گھر چھوٹا ہے تو کیا ہوا ․․․؟تم اس میں بھی اپنی سہیلیوں کو بلا سکتی ہو لیکن نینا یہی کہتی کہ یہ گھر چھوٹا ہی نہیں خراب بھی ہے ۔

یہاں میں اپنی سہیلیوں کو بلاؤں گی تو وہ میرا مذاق اڑائیں گی ۔

(جاری ہے)


ایک دن ماں بیٹی میں یہی بحث ہورہی تھی تو نینا کے پاپا نے کہا:
”بیٹا گھر بڑا ہویا چھوٹا گھر تو گھر ہوتا ہے ،ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھو۔“
نینا فوراً بولی ”نہیں پاپا! ہمارے پاس ہے ہی کیا ․․․؟شکر تو اس دن ادا کروں گی جب میں ایک بڑے اور پیارے سے گھونسلے میں ہوں گی اور اپنی ساری سہیلیوں کو جوچھوٹے سے گھر میں رہتی ہیں بلاؤں گی اور خوب جلاؤں گی کہ دیکھو میرا گھر کتنا پیارا ہے ۔

پھر سب میرے بڑے سے گھر میں روزانہ کھیلنے آیا کریں گی ۔اچھا پاپا۔ابھی تو میں باہر جارہی ہوں میری سہیلیاں میرا انتظار کررہی ہوں گی ۔آج ہم سب سہیلیاں نیلے سمندر کی سیر کو جارہی ہیں ۔
اس کی ماما نے کہا نینا بیٹا! خیال سے جانا اور اندھیرا ہونے سے پہلے واپس آجانا،دھیان رکھنا وہاں شکاری بہت آتے ہیں ،کسی درخت پر کوئی پنجرہ لٹکا ہوا نظر آئے تو اس کے اندر جانے کی کوشش مت کرنا یا کہیں زمین پردانہ پڑا ہوتو اسے بھی کھانے کی کوشش مت کرنا۔
میری تمام باتیں یادرکھنا اوران پر ضرور عمل کرنا۔
نینا جو اپنی مما کی باتیں غور سے سن رہی تھیں کہنے لگی ایک تو آپ اور پاپا نصیحت بہت کرتے ہیں ۔
مما نے کہابیٹا! بڑوں کی نصیحت میں چھوٹوں کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔چھوٹے اپنے بڑوں کی باتوں پر عمل کرلیں تو کبھی نقصان نہ اٹھائیں ۔

اچھا ماما اب مجھے جانے بھی دیں ،ویسے ہی مجھے بہت دیر ہو گئی ہے ۔
یہ کہہ کر نینا اڑتی ہوئی اپنی سہیلیوں کے پاس جا پہنچی ۔سب چڑیاں اس کا انتظار کررہی تھیں ،نینا کے پہنچتے ہی سب نے کہا چلو دیر نہ کرواب چلو ،سب اڑتی ہوئی نیلے سمندر تک پہنچ گئیں ۔
وہاں سب نے بہت مزے کیے پھر سب ”چھپن چھپائی“کھیلنے لگیں ،نینا بھی چھپ گئی۔
نینا تھوڑی آگے جا کر چھپی تھی ۔اس نے دیکھا کہ وہاں ایک بڑا پنجرہ تھا جس میں بہت سادانہ اور پانی رکھا تھا ۔وہ بہت پیارا پنجرہ تھا بالکل ایسا جیسا نینادعاؤں میں اللہ سے مانگتی تھی ۔
نینا نے دل میں سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہوگئی ہے پھر وہ جلدی سے واپس اپنی سہیلیوں کے پاس گئی اور بتانے لگی کہ میں نے ایک بہت بڑا اور پیارا سا گھر دیکھا ہے تم سب میرے ساتھ چلو،اس کی سہیلیوں نے جواب دیا نہیں ہمارے ماماپاپا نے منع کیا ہے ۔
ہم وہاں نہیں جائیں گی۔
نینا بولی! تم سب جاؤ یانہ جاؤ میں تو وہ پنجرہ ضرور اندر سے دیکھو ں گی ،وہ اتنا خوبصورت ہے اور بالکل ویسا ہے جیسا میں چاہتی تھی ۔یہ کہہ کر نینا اڑ کر اس پنجرے تک چلی گئی ،سب نے اسے بہت منع کیا لیکن اس نے کسی کی بات نہیں سنی اور اس پنجرے کے اندر چلی گئی۔

جیسے ہی نینا پنجرے کے اندر گئی پنجرہ فوراً بند ہو گیا تاہم نینا خوش ہو کر پورا پنجرہ دیکھنے لگی ،کافی دیر بعد اس کی سہیلیوں نے کہا کہ نینا ہم جارہے ہیں ،اندھیر اچاروں طرف پھیلنا شروع ہو گیا ہے ،گھر والے پریشان ہورہے ہوں گے ۔

نینا نے کہاں ہاں چلو! میں بھی چلتی ہوں لیکن اب نینا کو باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا․․․․․
ساری سہیلیاں نینا کو چھوڑ کر چلی گئیں اور کہاں کہ ہم تمہارے مما پاپا کو بھیجتے ہیں ․․․․
اس طرح نینا اکیلی رہ گئی اور روتے ہوئے مما پاپا کا انتظارکرنے لگی ۔
اتنے میں وہاں کچھ شکاری آگئے ،اسے دیکھ کر کہنے لگے ۔دیکھو! آج ایک ہی چڑیا پکڑی گئی لیکن ہے خوبصورت ،اس کو تو میں اپنے گھر لیاجاؤں گا۔اس طرح ایک آدمی نے نینا کا پنجرہ اٹھا کر اپنی گاڑی میں رکھ دیا اور سب سامان اکٹھا کرکے جانے کی تیاریاں کرنے لگے ۔

نینا روتے ہوئے ان سے کہہ رہی تھی رُک جاؤ ۔میرے مما پاپا کو تو آنے دو ۔میں ان کے بغیر کیسے رہوں گی ․․․․․؟
گاڑی چلنا شروع ہوگئی ،کافی آگے جا کر نینا نے دیکھا کہ اس کی سہیلیاں اور مما پاپا اسے اسی جگہ تلاش کررہے تھے جہاں نینا اور پنجرہ تھاپھر نینا ایک بالکل الگ جگہ آگئی جہاں نہ اس کے مما پاپا تھے نہ اس کی سہیلیاں اور نہ ی وہ کھلے آسمان میں اڑسکتی تھی ۔
اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ،ہاں بس ایک چیز تھی جس کی وہ خواہش کرتی رہتی تھی ،وہ تھا اس کا بڑا اور پیارا ساپنجرہ ۔اب نینا کو ہر وقت بس ایک ہی بات یاد آتی رہتی ۔
اس کے پاپا کہتے تھے گھر بڑا ہویا چھوٹا ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

Your Thoughts and Comments